اسلام آباد، 20 ستمبر 2026: پاکستان نے بجلی کے شعبے میں ایک اہم اصلاحاتی قدم اٹھاتے ہوئے ملک کی پہلی مسابقتی بجلی ویلنگ نیلامی کا آغاز کردیا ہے۔ یہ عمل Competitive Trading Bilateral Contract Market (CTBCM) کے تحت شروع کیا گیا ہے، جس کا مقصد بجلی کی خرید و فروخت کو روایتی سنگل بائر ماڈل سے نکال کر مسابقتی مارکیٹ کی طرف منتقل کرنا ہے۔
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے اعلان کیا کہ حکومت عملی طور پر بجلی کی خریداری کے عمل سے باہر نکل رہی ہے اور اب بجلی پیدا کرنے والے ادارے اور بڑے صارفین ایک دوسرے کے ساتھ براہ راست بجلی کی خرید و فروخت کرسکیں گے۔
پہلے مرحلے میں 400 میگاواٹ بجلی کی ویلنگ نیلامی کی جائے گی، جبکہ حکومت آئندہ پانچ برسوں کے دوران مجموعی طور پر 800 میگاواٹ بجلی کی طلب کو مسابقتی مارکیٹ میں منتقل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
نئے نظام کے تحت بجلی کی خریداری کا روایتی طریقہ تبدیل ہوگا۔ موجودہ نظام میں حکومت مرکزی طور پر بجلی خرید کر صارفین تک پہنچاتی ہے، جبکہ CTBCM کے تحت اہل صنعتی اور بڑے صارفین کو مختلف بجلی پیدا کرنے والے اداروں سے براہ راست بجلی خریدنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
ابتدائی مرحلے میں یہ سہولت بڑے صارفین کے لیے ہوگی، بالخصوص وہ صارفین جو ایک میگاواٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں۔ حکومت کے مطابق وقت کے ساتھ ساتھ مسابقتی بجلی مارکیٹ کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جاسکتا ہے تاکہ عام صارفین کو بھی بجلی کے مختلف ذرائع اور سپلائرز میں انتخاب کی سہولت حاصل ہو۔
اویس لغاری کے مطابق پہلے ویلنگ آکشن کا عمل شفاف طریقے سے مکمل کیا جائے گا۔ اس میں نیلامی کے دستاویزات جاری کرنا، امیدواروں کی اہلیت کا جائزہ، بولیوں کی جانچ، نتائج کی منظوری اور بجلی کے منظور شدہ کوانٹم کی تقسیم شامل ہوگی۔ نیلامی کے عمل کی نگرانی انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (ISMO) کرے گا۔
پاور ڈویژن کے مطابق مسابقتی بجلی مارکیٹ کے قیام سے بجلی کی پیداوار میں کارکردگی بہتر بنانے، موجودہ پاور پلانٹس کے بہتر استعمال اور زیادہ مناسب قیمتوں پر قابل اعتماد بجلی کی فراہمی کے لیے مسابقت پیدا ہونے کی توقع ہے۔ اس نظام سے قابل تجدید توانائی، بیٹری اسٹوریج اور دیگر جدید توانائی کے ذرائع کی شمولیت میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بجلی کے شعبے میں طویل مدتی اصلاحات کا حصہ ہے، جس کے ذریعے ملک کو مرکزی طور پر بجلی خریدنے کے نظام سے زیادہ مسابقتی اور صارف مرکز مارکیٹ کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق مسابقتی بجلی کی خریداری سے صنعتی شعبے کو بجلی کی لاگت بہتر انداز میں منظم کرنے اور عالمی منڈی میں اپنی مسابقت بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ پیش رفت نیپرا کی جانب سے اوپن ایکسس صارفین کے لیے Use of System Charges کے تعین کے بعد سامنے آئی ہے، جس نے CTBCM کے تحت براہ راست نیٹ ورک تک رسائی اور پہلی مسابقتی نیلامی کے لیے ضروری ریگولیٹری بنیاد فراہم کی۔
حکومت مرحلہ وار بجلی کی مارکیٹ کو مزید کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ مستقبل میں بجلی پیدا کرنے والے اداروں اور اہل صارفین کے درمیان براہ راست معاہدوں اور لین دین کا نظام مضبوط ہوسکے۔
