کراچی، 20 ستمبر 2026: چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے سمندر اور کریکس ایریا میں تعینات پاک بحریہ کے یونٹس کا دورہ کرکے جاری بحری مشق سی اسپارک 2026 کا جائزہ لیا اور شریک فورسز کی آپریشنل تیاریوں کا معائنہ کیا۔
پاک بحریہ کی یہ دو سالہ مشق یکم ستمبر سے جاری ہے، جس کا مقصد مختلف نوعیت کی بحری کارروائیوں کی مشق کرنا اور ضرورت پڑنے پر امن کے حالات سے جنگی صورتحال میں تیزی سے منتقل ہونے کی صلاحیت کو جانچنا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق مشق کے دوران پاک بحریہ کی مجموعی آپریشنل تیاری اور مختلف شعبوں میں مؤثر کارروائی کی صلاحیت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سی اسپارک 2026 میں جدید جنگی تقاضوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ مشق کے دوران انفارمیشن انوائرمنٹ میں آپریشنز، ملٹی ڈومین آپریشنز اور بغیر پائلٹ نظاموں کا وسیع استعمال کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد جدید جنگ میں ٹیکنالوجی، معلومات اور مختلف آپریشنل شعبوں کے باہمی کردار کو جانچنا ہے۔
مشق میں بحری جہازوں، آبدوزوں، طیاروں، بغیر پائلٹ نظاموں، میرینز اور اسپیشل فورسز سمیت مختلف صلاحیتوں کو شامل کیا گیا ہے۔ پاک فوج اور پاک فضائیہ کے عناصر بھی مشترکہ آپریشنز میں حصہ لے رہے ہیں، جس کے ذریعے سمندری، فضائی، زمینی، سائبر اور دیگر متعلقہ شعبوں میں باہمی رابطے اور تعاون کو بہتر بنانے کی مشق کی جا رہی ہے۔
اپنے دورے کے دوران ایڈمرل نوید اشرف نے مشق میں حصہ لینے والے افسران اور اہلکاروں سے ملاقات کی اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت، بلند حوصلے، آپریشنل تیاری اور سمندر میں ذمہ داریاں انجام دینے کے عزم کو سراہا۔
سی اسپارک 2026 کے دوران خطے میں بحری سرگرمیوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق 15 ستمبر کو پاکستان کے خصوصی اقتصادی زون میں ایک بھارتی بحری جہاز کی سرگرمی کے باعث پاکستانی اور بھارتی بحری جہازوں کے درمیان رابطہ ہوا، جس پر پاکستان نے بھارتی حکومت سے احتجاج کیا۔ پاکستان نے اس واقعے کو بین الاقوامی قوانین اور دونوں ممالک کے درمیان فوجی مشقوں سے متعلق معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا۔
سی اسپارک 2026 کا بنیادی مقصد پاک بحریہ کے آپریشنل تصورات کو جانچنا، مختلف سروسز کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا اور روایتی و جدید بحری خطرات سے نمٹنے کے لیے مجموعی تیاری کو مزید بہتر بنانا ہے۔
