اسلام آباد پولیس چیف سید علی ناصر رضوی نے وفاقی دارالحکومت کی عبادت گاہوں پر تعینات سکیورٹی انتظامات پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ شہر کے حساس علاقوں میں اچانک دورے کے دوران آئی جی پولیس نے سکیورٹی پروٹوکولز میں نمایاں خامیاں پائیں، جس کے بعد انہوں نے متعلقہ تھانوں کے افسران کو تنبیہ کی کہ غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
یہ ہدایات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب شہر میں مذہبی مقامات اور عوامی اجتماعات کے حوالے سے سکیورٹی الرٹس جاری کیے گئے ہیں۔ آئی جی کا کہنا ہے کہ روایتی سکیورٹی، جو صرف جامد گارڈز پر انحصار کرتی ہے، موجودہ دور کے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہے۔
سینٹرل پولیس آفس میں اعلیٰ افسران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید علی ناصر رضوی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا: "ہم یہاں صرف موجودگی ظاہر کرنے کے لیے نہیں بلکہ جان و مال کے تحفظ کے لیے ہیں۔” انہوں نے احکامات جاری کیے کہ سکیورٹی کو محض نفری کی تعیناتی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ سی سی ٹی وی مانیٹرنگ اور ریپڈ رسپانس ٹیموں کے درمیان مربوط نظام قائم کیا جائے۔
آڈٹ کے دوران انکشاف ہوا کہ داخلی راستوں پر چیکنگ کا نظام انتہائی کمزور ہے۔ کئی بڑی مساجد اور کمیونٹی مراکز پر داخلی راستے یا تو غیر محفوظ تھے یا وہاں تعینات عملے کے پاس شناخت کا کوئی مناسب طریقہ کار موجود نہیں تھا۔ کچھ مقامات پر نجی سکیورٹی گارڈز مقامی پولیس سے کسی قسم کا رابطہ رکھے بغیر کام کر رہے تھے، جس سے سکیورٹی میں ایک خطرناک خلا پیدا ہو رہا ہے۔
شہریوں کے لیے عبادت گاہوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ حالیہ مہینوں میں شہر میں جرائم کی شرح اور سکیورٹی خدشات میں اضافے کے باعث عوام پولیس کی کارکردگی پر سوال اٹھا رہے تھے۔ آئی جی کی مداخلت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پولیس کے اعلیٰ حکام زمینی حقائق اور سرکاری پالیسیوں کے درمیان موجود خلیج سے بخوبی آگاہ ہیں۔
کیپٹل پولیس کو حکم دیا گیا ہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں میں تمام بڑی مذہبی عبادت گاہوں کا سکیورٹی آڈٹ مکمل کیا جائے۔ اس عمل میں داخلی راستوں کے قریب غیر قانونی پارکنگ کا خاتمہ، نجی سکیورٹی عملے کی جانچ پڑتال اور میٹل ڈیٹیکٹرز کی فعالیت کو یقینی بنانا شامل ہے۔
اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آئی جی کے یہ احکامات سکیورٹی حکمت عملی میں مستقل تبدیلی لائیں گے یا یہ محض ایک ہنگامی کارروائی تک محدود رہیں گے۔ فی الحال، پولیس چیف نے اپنی کمان کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ موجودہ سست روی اب مزید قابل قبول نہیں ہے۔
