ملک بھر میں پٹرول کی قیمت میں 15 روپے 39 پیسے فی لیٹر کی کمی کر دی گئی ہے، جس کے بعد نئی قیمت 273 روپے 10 پیسے مقرر ہو گئی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 88 پیسے کی کمی کے ساتھ نیا نرخ 274 روپے 8 پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے۔
وزارتِ خزانہ نے جمعہ کی رات دیر گئے یہ نوٹیفکیشن جاری کیا۔ قیمتوں میں یہ ردوبدل وزیرِ اعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد عمل میں آیا، جس کا اطلاق فوری طور پر ہو چکا ہے۔ ایک ماہ کے دوران قیمتوں میں یہ دوسری بڑی کمی ہے، جو مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کے لیے کسی حد تک ریلیف کا باعث ہے۔
مٹی کے تیل کی قیمت 9 روپے 86 پیسے کی کمی سے 173 روپے 48 پیسے جبکہ لائٹ ڈیزل آئل 7 روپے 54 پیسے سستا ہو کر 161 روپے 17 پیسے پر آ گیا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں یہ کمی عالمی منڈی میں گزشتہ پندرہ دنوں کے دوران خام تیل کے نرخوں میں آنے والی گراوٹ کا نتیجہ ہے۔ حکومت آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی مد میں 60 روپے فی لیٹر تک ٹیکس وصول کر رہی ہے، تاہم عالمی منڈی میں قیمتیں گرنے سے حکومت کو ریلیف کا مارجن ملا۔
اصولی طور پر اس کمی کا اثر ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑنا چاہیے۔ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ ٹرانسپورٹرز ایندھن مہنگا ہونے پر فوری کرائے بڑھا دیتے ہیں، مگر قیمتیں گرنے پر وہی پھرتی دکھانے سے گریزاں رہتے ہیں۔ صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس ریلیف کو عام آدمی تک پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی کو یقینی بنائیں۔
نئے نرخ اگلے 15 دنوں کے لیے نافذ رہیں گے۔ 20 فیصد سے زائد افراطِ زر کے شکار عوام کے لیے پٹرول پمپ پر بچنے والا ہر روپیہ اہم ہے۔ تاہم، قیمتوں میں یہ کمی مستقل ہوگی یا نہیں، اس کا انحصار مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور عالمی سپلائی چین کے اتار چڑھاؤ پر ہے۔
