ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں سکیورٹی فورسز نے ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ فوجی حکام کے مطابق یہ کارروائی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی جس کا مقصد علاقے میں موجود عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔
کلاچی کا علاقہ طویل عرصے سے سکیورٹی فورسز کے لیے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ جنوبی وزیرستان سے متصل ہونے کی وجہ سے یہاں شدت پسندوں کی نقل و حرکت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ آپریشن کے دوران فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں چاروں ملزمان موقع پر ہی مارے گئے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔ فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ باقی ماندہ خطرے کو ختم کیا جا سکے۔
مقامی آبادی کے لیے یہ جھڑپ ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ڈیرہ اسماعیل خان کے دیہی علاقوں میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے، جس نے مقامی لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کر دیا ہے۔
خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسند گروپوں کے خلاف اپنی کارروائیوں کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ ان کارروائیوں سے دہشت گردوں کے مقامی نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچا ہے، تاہم حالیہ واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ شدت پسند اب بھی منظم ہو کر حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی شناخت کا عمل ابھی جاری ہے۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن مکمل ہونے تک سکیورٹی ہائی الرٹ رہے گی تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔ اس تازہ ترین کارروائی نے ایک بار پھر صوبے کے سرحدی علاقوں میں درپیش سکیورٹی چیلنجز کو نمایاں کر دیا ہے۔
