عائشہ مسعود (کراچی) ایک بڑے سرکاری ہسپتال سول میں بنیادی سہولیات کی شدید کمی سامنے آئی, جہاں پر مریضوں کے بیٹھنے کے لیے مناسب کرسیاں یا سیٹ تک موجود نہیں ہے۔ ہسپتال کے ویٹنگ روم میں گنجائش نا کافی ہونے کے باعث متعدد مریضوں کو یا تو زمین پر بیٹھنا پڑ رہا ہے یا پھر مجبوری کے تحت ہسپتال کے باہر سخت دھوپ اور گرمی میں انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ہسپتال کی او-پی-ڈی میں روزانہ سینکڑوں مریض علاج کے لیے آتے ہیں , مگر محدود گنجائش اور سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے مریضوں کو سخت مشکلات اور تکلیفات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سول ہسپتال میں نہ صرف کرسیوں کی کمی ہے بلکہ بہت سے ڈاکٹر بھی موجود نہیں ہیں اور آگر ہوتے بھی ہیں تو وقت پر نہیں آتے۔
مزید یہ کہ یہ حقیقت کسی المیے سے کم نہیں ہے کہ ایک طرف حکومت صحت کے شعبے میں بہتری کے دعوے کرتی ہے اور دوسری طرف شہریوں کو بنیادی سہولیات تک فراہم نہیں کرتی۔ ہسپتال جو کہ مریضوں کے لیے امید کی جگہ ہونی چاہیے آج تکلیف اور بے بسی کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ جب غریب عوام علاج کے لیے ہسپتال کا رخ کرتے ہیں تو کم از کم ان کے ساتھ انسانوں والا سلوک تو کرنا چاہیے۔
آخر میں یہ کہ حکومت کو جب معلوم ہے کہ غریب عوام سرکاری ہسپتال میں آتا ہے تو اس حساب سے انھیں سہولیات فراہم کرنی چاہیے کیونکہ اکثر غریب کے ساتھ ہمارے ملک میں غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے اور افسوس کے ساتھ ہمارے ملک میں عزت کو پیسوں سے ٹولا جاتا ہے اور جس وجہ سے غریبوں کے ساتھ سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹر تک اچھے سے بات تک نہیں کرتے اور ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ صحت کے معیار کو بہتر کریں اور سب کو برابر صحت کی سہولیات فراہم کریں یا تو پھر سرکاری ہسپتال کی حالت کو درست کریں اور عوام کو ترجیح دیں۔
