اسلام آباد: ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری شدید کشیدگی اور حملوں کے تبادلے کے دوران، پاکستان نے ایک طرف اسرائیل کی کارروائیوں کی سخت مذمت کی ہے، تو دوسری جانب اپنی مغربی سرحد پر ممکنہ خطرات کے پیش نظر ایران سے ملحقہ پانچ بارڈر کراسنگ عارضی طور پر بند کر دی ہیں۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ نے اسرائیلی حملوں کو "کھلی اشتعال انگیزی” اور ایران کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔
بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع تفتان بارڈر سے اب تک 500 سے زائد پاکستانی زائرین اور طالبعلم واپس آ چکے ہیں۔ حکام کے مطابق سرحد پار موجود مسلح بلوچ گروہوں کی ممکنہ نقل و حرکت اور ایران سے مہاجرین کے انخلاء کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو خدشہ ہے کہ اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو یہ عدم استحکام بلوچستان تک پھیل سکتا ہے، جہاں علیحدگی پسند تحریکیں پہلے ہی سرگرم ہیں۔ اس کے علاوہ اسرائیلی فضائیہ کی ایران پر برتری حاصل کرنے کی کوشش پاکستان کے مغربی سیکیورٹی توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔
ماضی میں خطے میں امریکہ کا اتحادی رہنے والا پاکستان اس بار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ملک میں ایک بڑی شیعہ آبادی موجود ہے، اور ایران کے خلاف کھلی حمایت اندرونی ردِعمل کو جنم دے سکتی ہے۔
