اداکار اور مصنف یاسر حسین نے ہانیا عامر کی بھارتی فلم سردار جی 3 میں شمولیت پر اٹھنے والے سوالات کا دوٹوک جواب دے دیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا: "انڈین موویز بہت اداکاروں نے کی ہیں، مگر ہانیا کی مووی تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔ ان حالات میں ہانیا کا اس فلم میں ہونا بہترین پرفارمنس کی ضمانت ہے۔” ان کا بیان نہ صرف ہانیا کے فن کو سراہتا ہے بلکہ اس وقت کے حساس ماحول میں ان کے حوصلے کی بھی تعریف کرتا ہے۔
جب اکثر فنکار خاموشی اختیار کرتے ہیں، یاسر کا کھل کر حمایت کرنا سوشل میڈیا پر تازگی بھرا لمحہ بن گیا۔ انہوں نے صرف ہانیا کی سپورٹ نہیں کی بلکہ ان کی فلم کو ایک تاریخ ساز قدم قرار دیا۔
سردار جی سیریز پہلے ہی مقبول تھی، لیکن ہانیا کی شمولیت نے اس میں نیا رنگ بھر دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ہر سرحد پار قدم پر سوال اٹھتا ہے۔ یاسر کا ماننا ہے کہ فن کو سیاسی سرحدوں کا قیدی نہیں بنانا چاہیے۔
انہوں نے ناقدین کو یہ پیغام دیا کہ ہانیا کی کارکردگی کو سیاسی چشمے سے نہ دیکھا جائے بلکہ اس کے فن کی روشنی میں پرکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل طاقت اداکاری میں ہے، سیاست میں نہیں۔
ہانیا کا اس فلم میں شامل ہونا ایک بہادرانہ فیصلہ ہے، اور یاسر کی کھلی حمایت نے یہ ثابت کر دیا کہ اب بھی کچھ آوازیں ایسی ہیں جو فن کو سرحدوں سے بالاتر سمجھتی ہیں۔
یاسر کا بیان صرف ایک اداکارہ کی حمایت نہیں، بلکہ فن، تخلیق اور ثقافتی تعلقات کی آزادی کا دفاع ہے۔ ان کے الفاظ میں چھپی طاقت نے اس پوری بحث کو ایک نئی سمت دے دی ہے۔
