نادرا نے شادی شدہ خواتین کے لیے ایک بڑی سہولت متعارف کرا دی ہے: اب خواتین اپنی قومی شناختی کارڈ (CNIC) پر اپنے والد یا شوہر میں سے کسی ایک کا نام اپنی مرضی سے درج کروا سکیں گی۔ یہ فیصلہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایات پر کیا گیا ہے، جو خواتین کے شناختی حقوق میں مثبت پیش رفت کی علامت ہے۔
اس سے پہلے شادی کے بعد خودکار طور پر شوہر کا نام درج کیا جاتا تھا، چاہے وہ اس پر راضی ہوں یا نہیں۔ اس عمل پر طویل عرصے سے اعتراض کیا جا رہا تھا کیونکہ یہ خواتین کی شناخت اور مرضی کو نظر انداز کرتا تھا۔
نئی پالیسی کے تحت اب خواتین کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اگر چاہیں تو شادی کے بعد بھی اپنے والد کا نام برقرار رکھ سکتی ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنان اور خواتین تنظیمیں اس فیصلے کو خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس تبدیلی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ خواتین کے جذبات اور حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے تاکہ کسی پر زبردستی ایسی شناخت نہ تھوپی جائے جو وہ خود نہ چاہیں۔
سوشل میڈیا پر اس فیصلے کو خوب سراہا جا رہا ہے۔ صارفین نے اسے "خواتین کی شناخت کی جیت” قرار دیا اور نادرا کے اس اقدام کی تعریف کی کہ وہ وقت کے ساتھ بدلتی سوچ کو اپنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ فیصلہ پاکستان میں شناخت کے نظام کو زیادہ لچکدار اور جدید بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے — جہاں فرد کی مرضی اور پہچان کو مقدم سمجھا جائے۔
