ویب ڈیسک
یکم جولائی 2025
وفاقی وزیر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کے صدر انجینئر امیر مقام نے صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ سوات واقعے کے بعد جاری انسداد تجاوزات آپریشن کی آڑ میں عوام کی قانونی ملکیتی زمینوں اور املاک کو گرایا جا رہا ہے۔
اپنے بیان میں امیر مقام نے کہا کہ حکومت تجاوزات ہٹانے کے نام پر لوگوں کی جائز اور قانونی جائیدادوں کو نقصان پہنچا رہی ہے، جس سے نہ صرف عوام کو اذیت دی جا رہی ہے بلکہ خطے کی سیاحت بھی تباہ ہو رہی ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو "افسوسناک اور شرمناک” قرار دیا۔
وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ ان کی اپنی قانونی ملکیت ہوٹل بھی اس انتقامی کارروائی سے محفوظ نہ رہ سکا۔ "میرے ہوٹل کی حدودی دیوار کو گرانا سیاسی انتقام کے سوا کچھ نہیں اور اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش ہے،” امیر مقام نے کہا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہوٹل کے تمام قانونی دستاویزات، ملکیت کے کاغذات، این او سی اور منظور شدہ نقشے متعلقہ اداروں سے باقاعدہ حاصل شدہ اور مکمل طور پر قانونی ہیں، اور وہ اس اقدام کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔
متاثرہ افراد سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا، "میں حاجی جلات خان سمیت ان تمام لوگوں کے ساتھ کھڑا ہوں جن کی قانونی املاک کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ سراسر ناانصافی ہے جسے کسی صورت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔”
صوبائی حکومت کی جانب سے تاحال ان الزامات پر کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا، جبکہ سوات میں انسداد تجاوزات آپریشن بدستور جاری ہے اور اس پر اپوزیشن جماعتوں اور متاثرہ شہریوں کی جانب سے تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
