اداکارہ مہوش حیات نے پاکستانی شوبز انڈسٹری میں خواتین کے ساتھ عمر کی بنیاد پر ہونے والے امتیازی سلوک پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے بدلنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
فوشیا میگزین کو دیے گئے حالیہ انٹرویو میں مہوش نے کہا کہ مرد اداکاروں کو "گریس فلی” عمر بڑھانے کی اجازت ہوتی ہے اور وہ نوجوان اداکاراؤں کے ساتھ ہیرو بنتے ہیں، لیکن خواتین کو ہمیشہ "جوان” نظر آنے کا دباؤ دیا جاتا ہے۔
"یہاں مرد عمر کے ساتھ ہیرو بنتے رہتے ہیں، لیکن خواتین اداکاراؤں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ وقت میں ٹھہر جائیں۔”
انہوں نے کہا کہ اداکار کی عمر کے بجائے اس کے فن، کردار اور کارکردگی کو ترجیح دینی چاہیے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ سب پیچھے رہ جاتا ہے۔
"ہم فنکار کی عمر کے پیچھے کیوں پڑ جاتے ہیں؟ ہم اس کے کام، صلاحیت یا پیغام کو کیوں نظر انداز کرتے ہیں؟”
مہوش نے مغربی انڈسٹری کی مثال دی جہاں 30، 40 اور 50 سالہ خواتین کو مضبوط کرداروں میں دکھایا جاتا ہے — جیسے قائد، ماں، رہنما۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستانی ڈراموں اور فلموں میں بھی ایسی ہی خواتین پر مبنی کہانیوں کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اس منافقت کی نشاندہی بھی کی کہ 40 سال سے زائد عمر کے مرد فنکاروں کو "تجربہ کار” سمجھا جاتا ہے، لیکن خواتین کے لیے یہی عمر سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔
"30 کے بعد خواتین کو سنجیدگی سے لینا چاہیے کیونکہ تب ہی وہ بطور فنکار نکھرتی ہیں۔”
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اے آر وائی کے ڈرامے میں منٹو نہیں ہوں میں ہمایوں سعید اور سجل علی کے درمیان 20 سال سے زائد عمر کا فرق سوشل میڈیا پر سخت تنقید کا نشانہ بن رہا ہے۔
مہوش نے کہا کہ انڈسٹری کی سوچ تب ہی بدلے گی جب کہانی لکھنے والے، پروڈیوسر اور اداکار سب مل کر ایسی کہانیاں تخلیق کریں جن میں ہر عمر کی خواتین کو جگہ ملے۔
شادی سے متعلق سوالات پر مہوش نے کہا کہ یہ دباؤ دراصل معاشرتی توقعات کا نتیجہ ہے، نہ کہ ان کی ذاتی ترجیح۔
"میرے لیے شادی کبھی زندگی کا مقصد نہیں رہی۔ یہ یقیناً اہم فیصلہ ہے، لیکن میں تبھی شادی کروں گی جب مجھے اس شخص پر مکمل یقین ہو گا۔”
