واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے 12 ممالک کے لیے ایسے خطوط پر دستخط کر دیے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ اگر ان ممالک نے نئی شرائط قبول نہ کیں تو ان کی امریکہ کو برآمد کی جانے والی اشیاء پر بھاری ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔
یہ خطوط "قبول کرو یا چھوڑ دو” کی طرز پر مبنی ہیں اور پیر کے روز بھیجے جائیں گے — صرف چند دن قبل اس وقت جب 9 جولائی کی ڈیڈ لائن ختم ہو رہی ہے۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے متعلقہ ممالک کے نام بتانے سے گریز کیا اور کہا کہ پیر کے روز فہرست منظرِ عام پر آئے گی۔
“میں نے کچھ خطوط پر دستخط کیے ہیں، یہ پیر کو بھیجے جائیں گے۔ ہر ملک کے لیے ٹیرف کی رقم اور شرح مختلف ہے،” ٹرمپ نے کہا۔
مذاکرات سے براہ راست کارروائی کی طرف رجحان
ٹرمپ حکومت نے پہلے درجنوں ممالک کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی حکمت عملی اپنائی تھی، لیکن جاپان اور یورپی یونین جیسے بڑے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ بات چیت میں رکاوٹوں کے باعث اب براہ راست خطوط بھیجنے کی حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔
"خط بھیجنا زیادہ آسان ہے، اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں،” ٹرمپ نے کہا۔
ڈیڈ لائن قریب، ٹیرف 70 فیصد تک جا سکتے ہیں
اپریل میں، ٹرمپ نے ایک 10 فیصد بنیادی ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ کچھ ممالک کے لیے یہ شرح 50 فیصد تک بڑھائی جا سکتی تھی۔ بعد ازاں ان میں سے زیادہ تر ٹیرف 90 دن کے لیے معطل کر دیے گئے تھے تاکہ مذاکرات کی گنجائش دی جا سکے۔
اب جبکہ 9 جولائی کو یہ مدت ختم ہو رہی ہے، ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر معاہدے نہ ہوئے تو ٹیرف 1 اگست سے 70 فیصد تک بڑھائے جا سکتے ہیں۔
اب تک کون بچا اور کون پھنس گیا؟
اب تک صرف برطانیہ اور ویتنام ایسے دو ممالک ہیں جنہوں نے کامیابی سے معاہدے کر لیے ہیں:
-
برطانیہ نے 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھا، اور کچھ شعبوں جیسے آٹوموبائل اور جہاز سازی کے لیے ترجیحی مراعات حاصل کیں۔
-
ویتنام نے 46 فیصد کی دھمکی سے بچتے ہوئے ٹیرف کو 20 فیصد تک محدود کروایا، جبکہ امریکی مصنوعات کو ڈیوٹی فری رسائی بھی ملی۔
تاہم بھارت اور یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔ یورپی حکام کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال اسٹیٹس کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے تاکہ فوری ٹیرف اضافے سے بچا جا سکے
