واشنگٹن: ٹیکنالوجی کی دنیا کی مشہور شخصیت اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر)، اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے مالک ایلون مسک نے امریکی سیاست میں ہلچل مچاتے ہوئے ایک نئی سیاسی جماعت "امریکہ پارٹی” کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ان کی بڑھتی ہوئی دوری اور مخالفت کا نتیجہ ہے۔
ایلون مسک نے ہفتے کے روز ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا:
"دو کے مقابلے ایک کے تناسب سے، عوام نئی سیاسی جماعت چاہتے ہیں — اور اب انہیں یہ ملے گی!”
انہوں نے مزید کہا:
"آج ’امریکہ پارٹی‘ کی بنیاد رکھ دی گئی ہے — تاکہ آپ کو آپ کی آزادی واپس دی جا سکے۔”
ٹرمپ سے دوستی سے دشمنی تک
ایلون مسک اور صدر ٹرمپ کے درمیان تعلقات اس وقت خراب ہوئے جب ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورِ صدارت میں ایک بڑا ٹیکس کٹ اور اخراجاتی بل منظور کیا، جسے وہ "خوبصورت ٹیکس اصلاحات” قرار دیتے ہیں، لیکن مسک نے اسے امریکہ کو دیوالیہ کرنے والا اقدام قرار دیا۔
ماضی میں ایلون مسک نہ صرف ٹرمپ کی انتخابی مہم میں اربوں ڈالرز کی فنڈنگ کر چکے ہیں بلکہ انہیں محکمہ سرکاری کفایت شعاری کی سربراہی بھی سونپی گئی تھی، جس کا مقصد حکومتی اخراجات میں کمی لانا تھا۔
تاہم، نئی مالیاتی پالیسیوں پر اختلافات کے بعد، دونوں کے تعلقات بری طرح خراب ہو چکے ہیں۔
ایلون مسک نے ایکس پر ایک سوال کے جواب میں کہا:
"جب بجٹ خسارہ بائیڈن کے دور میں پہلے ہی $2 ٹریلین تک پہنچ چکا ہو، اور اب اسے $2.5 ٹریلین کر دیا جائے — تو یہ ملک کو دیوالیہ کرنے والی حرکت ہے۔”
قدیم یونانی حکمتِ عملی کی مثال
ایلون مسک نے اپنی نئی جماعت کی حکمتِ عملی کی وضاحت کرتے ہوئے قدیم یونانی جنرل ایپامنونداس کا حوالہ دیا، جنہوں نے اسپارٹا کی ناقابل شکست طاقت کو شکست دی تھی:
"ہم موجودہ دو جماعتی نظام کو توڑیں گے، ویسے ہی جیسے ایپامنونداس نے لیوکترا کی جنگ میں اسپارٹا کی افسانوی طاقت کو ختم کیا — ایک انتہائی مرکوز حملے سے، میدانِ جنگ کے بالکل درست مقام پر۔”
سیاسی ہلچل اور مارکیٹ میں اثرات
ایلون مسک کی جانب سے نئی جماعت کے اعلان کے بعد ریپبلکن پارٹی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مبصرین کے مطابق، مسک جیسے بااثر اور امیر شخص کی جانب سے الگ راستہ اختیار کرنا ریپبلکن پارٹی کے 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں ووٹ تقسیم کر سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، لیکن ٹرمپ پہلے ہی مسک کی کمپنیوں کو دی جانے والی وفاقی سبسڈیز ختم کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔
ٹیسلا کے شیئرز پر بھی اس کشمکش کا اثر پڑا ہے — نومبر 2024 میں ٹرمپ کی دوبارہ کامیابی کے بعد اسٹاک کی قیمت $488 سے زائد ہو گئی تھی، لیکن اپریل 2025 میں یہ گر کر $315.35 پر بند ہوئی، یعنی 35 فیصد سے زیادہ کی کمی۔
نظام کو چیلنج کرنا آسان نہیں
اگرچہ ایلون مسک دنیا کے امیر ترین انسانوں میں سے ایک ہیں، لیکن امریکہ میں ریپبلکن-ڈیموکریٹ دو جماعتی نظام کو توڑنا کوئی آسان کام نہیں۔ یہ نظام گزشتہ 160 برسوں سے سیاست پر قابض ہے۔
اس کے باوجود، مسک کی "امریکہ پارٹی” کا اعلان ایک بڑی علامت ہے کہ امریکہ میں روایتی سیاست سے بیزاری بڑھ رہی ہے — اور ایک نئے سیاسی باب کا آغاز ممکن ہے۔
