اسلام آباد،
15 جولائی 2025
پاکستان بھر میں جاری شدید مون سون بارشوں کے نتیجے میں مزید 6 افراد زندگی کی بازی ہار گئے، جس کے بعد 26 جون سے اب تک مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 111 تک جا پہنچی ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کے مطابق اس دوران کم از کم 212 افراد زخمی بھی ہو چکے ہیں، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔
NDMA کی تازہ رپورٹ کے مطابق صوبہ پنجاب میں سب سے زیادہ 40 اموات ہوئیں، خیبر پختونخوا میں 37، سندھ میں 17، بلوچستان میں 16 جبکہ آزاد کشمیر میں ایک ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے۔
بیشتر اموات کرنٹ لگنے، مکانات کی چھتیں گرنے اور فلش فلڈنگ کے باعث ہوئیں۔
پاکستان محکمہ موسمیات (PMD) نے خبردار کیا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں 15 جولائی کی رات سے 17 جولائی تک مزید شدید بارشیں متوقع ہیں۔ خاص طور پر پنجاب، خیبر پختونخوا، اسلام آباد، کشمیر، شمالی/جنوبی بلوچستان، سندھ کے بالائی علاقے اور گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے ساتھ آندھی اور تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔
NDMA کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران راولپنڈی، اسلام آباد، مردان، پشاور، لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ساہیوال، ملتان، بہاولپور، کوٹ ادو، تونسہ، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور جیسے نشیبی علاقوں میں شہری سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
مزید برآں، چترال، دیر، سوات، شانگلہ، مانسہرہ، مری، گلیات، کوہستان، ایبٹ آباد، بنیر، نوشہرہ اور مردان کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا شدید خطرہ موجود ہے، جو ٹریفک کی روانی میں خلل ڈال سکتی ہے۔
NDMA نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہنگامی حالات کے لیے 3 سے 5 دن کی خوراک، پینے کا پانی، ادویات اور ضروری سامان پر مشتمل ایمرجنسی کٹس تیار رکھیں۔
اس کے علاوہ، کھلے علاقوں میں موجود کھمبے، درخت، گاڑیاں اور سولر پینلز تیز ہواؤں سے متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ کھڑی فصلوں کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب کے ضلع بہاولنگر میں سب سے زیادہ 86 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس سے نشیبی علاقوں میں پانی بھرنے اور نقل و حرکت متاثر ہونے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمی شدت میں اضافہ عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے، اور موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے بروقت حکومتی اقدامات اور مقامی سطح پر آگاہی مہمات انتہائی ضروری ہو گئی ہیں۔
