اسلام آباد، 12 اگست — بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں تعینات پاکستانی ہائی کمیشن کے سفارتکار مبینہ طور پر شدید ہراسانی کا سامنا کر رہے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق کم از کم چار افسران کو ان کے کرائے کے گھروں سے قبل از وقت بے دخلی کے نوٹس دیے گئے ہیں، حالانکہ کرایہ نامہ ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔
مزید بتایا گیا کہ پاکستانی عملے کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کی جا رہی ہے اور گیس، انٹرنیٹ جیسی ضروری سہولتیں وقفے وقفے سے منقطع کی جا رہی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 17 پاکستانی افسران اور سفارتکاروں کے ویزوں کی توسیع کی درخواستیں بھارتی وزارتِ خارجہ میں تین سے پانچ ماہ سے زیرِ التوا ہیں، باوجود اس کے کہ اس معاملے پر بارہا یاد دہانیاں بھی کرائی جا چکی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن کی پانی کی فراہمی بھی روک دی گئی ہے، جبکہ بھارتی اخبارات کی ترسیل گزشتہ چھ ہفتوں سے بند ہے۔ اس صورت حال سے پاکستان کی وزارتِ خارجہ کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔
یہ کشیدگی مئی میں اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان ایک مختصر مگر شدید مسلح جھڑپ کے بعد مزید بڑھ گئی۔ بھارت کا دعویٰ تھا کہ اس نے پاہلگام حملے میں ملوث عسکریت پسندوں کو نشانہ بنانے کے لیے پاکستان میں کارروائی کی، جبکہ پاکستان نے جواب میں "آپریشن بنیان المرسوس” کے دوران چھ بھارتی لڑاکا طیارے، جن میں تین رافیل شامل تھے، مار گرائے۔
اس 87 گھنٹے جاری رہنے والے تنازع میں پاکستان میں 40 عام شہری اور 13 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ جھڑپ کے بعد بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کیا، تاہم مستقل ثالثی عدالت نے حالیہ فیصلے میں حکم دیا کہ بھارت مغربی دریاؤں کا پانی پاکستان کو بلا رکاوٹ فراہم کرتا رہے۔
