لاہور – معروف اسٹیج اور ٹی وی اداکار انوار علی پیر کے روز لاہور میں 71 برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، ان کے اہلِ خانہ نے تصدیق کی۔
سینئر کامیڈین فالج، پھیپھڑوں اور گردوں کے مسائل کے ساتھ دل کی بیماری میں بھی مبتلا تھے۔ اتوار کے روز انہیں مقامی اسپتال میں داخل کرایا گیا اور آئی سی یو منتقل کیا گیا، تاہم طبی کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکے۔
ان کے انتقال کی خبر پر مداحوں، ساتھی فنکاروں اور اہلِ فن کی جانب سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سب نے انہیں ایک ثقافتی علامت قرار دیا جو ہنسی کی طاقت کو مجسم کرتے تھے۔
انیس سو ستر کی دہائی میں اپنے کیرئیر کا آغاز کرنے والے انوار علی جلد ہی پنجابی اسٹیج تھیٹر کے بڑے ناموں میں شمار ہونے لگے۔ انہوں نے مستانا، بابو برال اور افتخار ٹھاکر جیسے لیجنڈز کے ساتھ پرفارم کیا۔ ٹی وی ڈراموں سونا چاندی، جنجال پورہ، نشانی (1979) اور خدا بخش (1989) میں ان کے یادگار کرداروں نے انہیں پاکستان بھر میں مقبول بنایا۔
انہوں نے اپنے فنی سفر کے دوران 500 سے زائد اسٹیج ڈراموں اور 100 سے زیادہ ٹی وی پروڈکشنز میں کام کیا، اور بے شمار اعزازات حاصل کیے جن میں پی ٹی وی لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ بھی شامل ہے۔
پاکستان ایک ایسے فنکار کا سوگ منا رہا ہے جس نے اسٹیج، ٹی وی اور سنیما پر ناقابلِ فراموش نقوش چھوڑے۔
