اسلام آباد: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک تاریخی اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ خطے میں سلامتی کے حوالے سے ایک بڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے، جو دونوں اتحادیوں کی عسکری طاقت کو یکجا کر کے بیرونی خطرات کو روکنے اور دیرپا استحکام کو یقینی بنائے گا۔
یہ معاہدہ جو کئی دہائیوں پر محیط عسکری اور سفارتی تعاون کو مزید مضبوط بناتا ہے، مشترکہ دفاعی حکمتِ عملی، فوجی تربیت، دفاعی صنعت میں اشتراک اور کثیرالملکی مشقوں کو شامل کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پاکستان-سعودی تعلقات کی تاریخ کے اہم ترین سنگ میلوں میں سے ایک ہے۔
وفاقی وزیر اور استحکامِ پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان نے اس معاہدے کو "دفاع کی ضمانت” قرار دیا، نہ کہ طاقت کے مظاہرے کے طور پر۔ انہوں نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو اس معاہدے کے پیچھے اصل محرک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شراکت داری پاکستان کی عسکری صلاحیتوں کا اعتراف ہے۔
عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ دو اسلامی ممالک کو "امن کے سفیر” کے طور پر متحد کرتا ہے اور عالمی برادری کے لیے مثبت پیغام ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مشترکہ دفاعی حکمتِ عملی پاکستان آرمی پر اعتماد کی عکاسی کرتی ہے اور خطے میں امن، توازن اور سلامتی کو فروغ دے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ دونوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید بہتر کرے گا، دو طرفہ تعلقات کو گہرا کرے گا اور سلامتی، معیشت اور سفارتکاری کے شعبوں میں مشترکہ فوائد فراہم کرے گا۔
