کرکٹ کا وہ میلہ جو شائقین کے لیے خوشی اور کھیل کے خالص جذبے کی علامت ہونا چاہیے تھا، اس بار کڑواہٹ اور کشیدگی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ایشیا کپ میں روایتی حریف بھارت اور پاکستان کا ٹاکرا کھیل سے زیادہ سیاست اور تلخی کا تاثر دے گیا، اور اسی لیے ناقدین اسے ’’ایشیا کپ نہیں بلکہ نفرت کا کپ‘‘ کہہ رہے ہیں۔
میچ کی ابتدا ہی سے ماحول مختلف محسوس ہوا۔ ٹاس کے وقت دونوں کپتانوں نے نہ تو ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا اور نہ ہی میچ کے بعد کھلاڑیوں کے درمیان روایتی مصافحہ ہوا۔ بظاہر یہ معمولی سی بات لگتی ہے لیکن اس نے پورے مقابلے کا رنگ بدل دیا۔
بھارتی کپتان سوریہ کمار یادو نے فتح کے بعد اپنی ٹیم کی کامیابی کو پہلگام حملے کے متاثرین کے نام کیا۔ بھارتی شائقین کے لیے یہ ایک جذباتی پیغام تھا، لیکن پاکستان کی نظر میں یہ کھیل کے میدان کو سیاسی بیانات کے لیے استعمال کرنے کے مترادف تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اس رویے پر سخت احتجاج درج کروایا اور میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ کو ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا۔
میڈیا کی جنگ نے بھی صورتِ حال کو مزید بگاڑ دیا۔ بھارتی میڈیا نے اس جیت کو قومی وقار اور سلامتی کے بیانیے کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا، جبکہ پاکستانی میڈیا نے اس رویے کو غیر اسپورٹس مین شپ اور تعلقات مزید خراب کرنے والا عمل قرار دیا۔ پاکستانی روزنامہ دی ٹریبیون نے اپنے تبصرے میں کہا کہ ’’ایشیا کپ اب نفرت کا کپ بن گیا ہے‘‘۔
اصل خطرہ یہ ہے کہ اس رویے کے اثرات آنے والے وقت میں کھیل اور سفارتی تعلقات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ برسوں سے کرکٹ کو بھارت اور پاکستان کے درمیان پُل سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن اس بار یہ پُل کمزور دکھائی دیتا ہے۔ شائقین کے ذہنوں میں یہ ٹورنامنٹ شاندار شاٹس اور سنسنی خیز اوورز کے بجائے کڑوی یادوں کے ساتھ محفوظ ہو سکتا ہے۔
کرکٹ کو ہمیشہ ’’جینٹل مین گیم‘‘ کہا گیا ہے، لیکن فی الحال اس میں شرافت کے بجائے نفرت زیادہ دکھائی دے رہی ہے۔
