لاہور میں تین مشہور ٹک ٹاکرز — اقراء کنول، ندیم مبارک اور حسنین شاہ — کے خلاف غیر قانونی آن لائن ٹریڈنگ ایپلیکیشنز کی تشہیر کے الزام میں مقدمات درج کر لیے ہیں۔
ایجنسی کے مطابق ملزمان کو تین بار طلب کیا گیا لیکن وہ جان بوجھ کر پیش نہ ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ سوشل میڈیا انفلوئنسرز عوام کو جھوٹے منافع کے لالچ دے کر غیر قانونی ایپس میں سرمایہ کاری پر اکساتے رہے۔
ذرائع کے مطابق ملزمان کی فوری گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ ان پر عوام کو گمراہ کرنے اور غیر قانونی مالی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے دھوکہ دہی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد ایجنسی نے انفلوئنسرز پر کڑی نظر رکھنا شروع کر دی ہے۔ NCCIA نے واضح کیا ہے کہ عوام کو مالی فراڈ سے بچانے کے لیے سخت کارروائی کی جائے گی اور کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی۔
یہ مقدمات ملک بھر میں جاری سائبر کرائم کے خلاف مہم کا حصہ ہیں جس کا مقصد ڈیجیٹل مالیاتی فراڈ پر قابو پانا ہے۔
