اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت فیصلہ کرے گی کہ غزہ میں امن فوج بھیجنی ہے یا نہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کردہ امن منصوبے میں فوجی بھیجے گا؟ اس پر اسحٰق ڈار نے کہا کہ یہ فیصلہ قیادت کرے گی اور ہر پہلو کو مدنظر رکھا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ انڈونیشیا پہلے ہی 20 ہزار امن فوجی بھیجنے کی پیشکش کر چکا ہے، تاہم غزہ میں زمینی صورتحال کی ذمہ داری فلسطینی اداروں کے پاس ہی رہے گی۔
وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر امریکی صدر ٹرمپ اور آٹھ مسلم ممالک کے رہنماؤں کی ملاقات میں غزہ میں فوری سیز فائر، بے گھر ہونے والے شہریوں کی واپسی، امداد کی فراہمی اور تباہ حال علاقے کی بحالی پر غور کیا گیا۔
ان کے مطابق مسلم ممالک نے مشترکہ طور پر مطالبہ کیا کہ تمام اقدامات کو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے ریکارڈ میں شامل کیا جائے تاکہ امن کے عمل کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جا سکے۔
اسحٰق ڈار نے مزید کہا کہ مسلم ممالک کے مشترکہ اعلامیے کو فلسطینی اتھارٹی نے خوش آئند قرار دیا ہے، جبکہ کچھ حلقے اس پر سیاست کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “یہ انسانی جانوں کا معاملہ ہے، خدارا اس پر سیاست نہ کریں۔”
