کراچی — رواں سال منعقد ہونے والی عالمی اُردو کانفرنس میں کراچی کے اُس تاریخی، تہذیبی اور تخلیقی کردار کو خصوصی طور پر اجاگر کیا جائے گا جس نے اس شہر کو اُردو زبان، ادب اور فنون کا اہم ترین مرکز بنا دیا ہے۔ کانفرنس کے منتظمین کے مطابق اس بار پروگرام میں کئی ایسے سیشن شامل کیے گئے ہیں جو صرف کراچی کے ادبی ورثے اور اس کی ثقافتی خدمات پر مرکوز ہوں گے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے کراچی وہ شہر رہا ہے جہاں ملک بھر سے شعرا، ادبا، فنکار اور دانشور آکر بسے، تخلیق کے نئے راستے کھولے اور اُردو زبان کو نئی جہتیں دیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد یہ شہر نہ صرف ادبی رسائل، اشاعتی اداروں اور کتابی میلوں کا محور بنا بلکہ یہاں کے ادبی حلقوں، مشاعروں اور علمی نشستوں نے اُردو زبان کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ کانفرنس میں انہی روایات کے تسلسل کو خراجِ تحسین پیش کیا جائے گا۔
کانفرنس کے دوران شہر کے ممتاز ادیبوں، محققین اور فنکاروں کے ساتھ خصوصی گفتگو کے سیشن رکھے جا رہے ہیں جن میں وہ کراچی کی ثقافتی زندگی کے مختلف ادوار، ادبی تحریکوں اور سماجی تبدیلیوں پر روشنی ڈالیں گے۔ اس کے علاوہ نوجوان لکھاریوں کے لیے ورکشاپس، شاعری کے خصوصی مشاعرے، کلاسیکی اور جدید ادب پر مباحثے، اور نئی کتب کی رونمائیاں بھی پروگرام کا حصہ ہوں گی۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ اس سال کا تھیم اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کراچی صرف ایک میٹروپولیٹن شہر نہیں بلکہ ایسی ادبی و فنی سرزمین ہے جہاں ہر زبان، ہر ثقافت اور ہر فکر کے لوگ اپنے اپنے رنگ بکھیر کر ایک منفرد تہذیبی امتزاج پیدا کرتے ہیں۔ اسی تنوع اور وسعتِ نظر نے کراچی کو عالمی اُردو کانفرنس کے لیے ہمیشہ سے ایک قدرتی مرکز بنا رکھا ہے۔
شرکاء کا کہنا ہے کہ اس سال کی کانفرنس نہ صرف شہر کے تاریخی کردار کو اجاگر کرے گی بلکہ یہ بھی دکھائے گی کہ آج کا کراچی کس طرح نئی نسل کے تخلیق کاروں کے لیے امکانات کے دروازے کھول رہا ہے—چاہے وہ ادب ہو، فنونِ لطیفہ، تھیٹر، زبان، یا جدید میڈیا کے ذریعے اظہار۔
عالمی اُردو کانفرنس ہر سال دنیا بھر سے ادبی و علمی شخصیات کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتی ہے، اور اس سال کراچی کو مرکزِ نگاہ بنانے کا مقصد اس کے ادبی وقار، ثقافتی مزاج اور تخلیقی دھڑکن کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا ہے۔
