کراچی – ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان اپنے علاقائی ہمسایوں کے مقابلے میں ڈیجیٹل تجارت کے مواقع سے فائدہ اٹھانے میں پیچھے ہے۔ رپورٹ کے مطابق بکھری ہوئی ریگولیشنز، کمزور انفراسٹرکچر اور پالیسی ہم آہنگی کی کمی ملک کی مسابقت کو متاثر کر رہی ہے۔
رپورٹ “Digitally Connected CAREC: Digital Trade, Emerging Regulatory Challenges, and Solutions” کے مطابق پاکستان کی اسٹریٹجک پوزیشن کے باوجود، سرحد پار ای-کامرس اور ڈیجیٹل سروسز کے لیے ضروری اصلاحات سست روی کا شکار ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں پاکستان کی ڈیجیٹل تجارت 7.93 ارب ڈالر رہی، جو ملائیشیا (39.04 ارب ڈالر)، فلپائن (38.57 ارب ڈالر) اور تھائی لینڈ (50.57 ارب ڈالر) جیسے آسیان ممالک سے کہیں کم ہے۔ سی اے آر ای سی ممالک (چین کے سوا) میں اندرونی تجارت صرف 7 فیصد ہے، جب کہ آسیان میں یہ شرح 24 فیصد ہے۔
رپورٹ میں بڑے مسائل کی نشاندہی کی گئی: ناقص انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی، ڈیٹا سینٹرز کی کمی، ادائیگیوں کے نظام میں ربط کی کمی، یونیسکیپ کے فریم ورک کی تاخیر سے توثیق، اور متحدہ ریگولیٹری ڈھانچے کا فقدان۔ صارفین کے تحفظ اور سائبر قوانین کی کمزوری بھی بڑی رکاوٹ ہے۔
بینکنگ تجزیہ کار ابراہیم امین نے ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان میں زیادہ تر اداروں کے پاس مربوط ڈیٹا سسٹم نہیں ہیں۔ “ہر محکمہ اپنی فائل الگ رکھتا ہے، کوئی بھی آپس میں جڑا ہوا نہیں۔” انہوں نے کہا کہ جب اندرونی ہم آہنگی نہیں ہوگی تو صنعتیں کیسے تعاون یا جدت پیدا کریں گی۔
اے ڈی بی نے تنبیہ کی کہ اگر پاکستان نے ضابطوں کو ہم آہنگ نہ کیا، انفراسٹرکچر کو بہتر نہ بنایا اور علاقائی معاہدوں کو اپنایا نہ، تو وہ عالمی ڈیجیٹل سپلائی چین سے باہر رہ سکتا ہے۔
رپورٹ میں طویل المدتی پالیسی فریم ورک، ڈیجیٹل سنگل ونڈو سسٹم، اسمارٹ پورٹس اور خواتین و نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل مہارت کی تربیت کی سفارش کی گئی ہے۔ امین کے مطابق پاکستان کو پہلے اپنے ادارہ جاتی سسٹمز کو یکجا کرنا ہوگا تاکہ نئی صلاحیتیں اور اختراعات پیدا کی جا سکیں۔
