کراچی میں جاری ورلڈ کلچر فیسٹیول کے دوران مختلف ممالک سے آئے فنکاروں نے ایک ہی پیغام بار بار دہرایا کہ فن کی اصل طاقت انسانی تخلیق میں ہے، اور مصنوعی ذہانت اس کا متبادل نہیں بن سکتی۔
آرٹس کونسل آف پاکستان میں ہونے والے سیشن "Creative Freedom in Art” میں موسیقاروں، اداکاروں اور تھیٹر کوچز نے اس بڑھتے ہوئے رجحان پر سوال اٹھایا کہ تخلیقی عمل میں AI پر ضرورت سے زیادہ انحصار کیوں کیا جا رہا ہے۔ فیسٹیول میں اس سال 140 سے زائد ملکوں کے فنکار شریک ہیں اور یہاں ثقافتی شناخت، اظہارِ رائے اور تخلیقی محنت کے مستقبل پر وسیع گفتگو ہو رہی ہے۔
ایک کینیائی گٹارسٹ نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ لوگ تخلیق کے اصل سفر کو بھولتے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق "ہم جن چیزوں پر مہینوں محنت کرتے ہیں، AI چند سیکنڈ میں بنا دیتی ہے، اور اُس میں وہ روح باقی نہیں رہتی جو انسان اپنے ہاتھوں سے تخلیق کرتا ہے۔”
ملائیشیا سے آئے ایک تھیٹر کوچ نے نوجوان فنکاروں کو خبردار کیا کہ مشینوں کو اپنی تخلیقی سمت کا فیصلہ کرنے نہ دیں۔ ان کے بقول، "اگر AI وہی بات بتا رہی ہے جو آپ پہلے سے جانتے ہیں تو اسے چھوڑ دیں۔ اصل بھروسہ اپنے فن پر کریں۔”
ایک یورپی فنکارہ نے سیشن کے دوران توقف کیا، حاضرین کی طرف دیکھا اور کہا، "ہم تھک چکے ہیں۔ ہم آہستہ آہستہ مر رہے ہیں۔ لیکن اگر ہم متحد ہو جائیں تو AI سے آگے نکل سکتے ہیں اور دنیا میں وہ نظم واپس لا سکتے ہیں جو ہم کھو رہے ہیں۔” ہال کئی لمحوں تک تالیاں بجاتا رہا۔
اگرچہ زیادہ تر فنکار AI کے خلاف کھڑے نظر آئے، لیکن کچھ نے اسے بطور مددگار قبول کرنے کی بات بھی کی۔ ایک پاکستانی ڈانسر نے کہا، "AI معلومات اکٹھی کرنے یا منصوبہ بنانے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن فیصلہ ہمیشہ فنکار کو ہی کرنا چاہیے۔”
اس گفتگو کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی کہ رواں سال فیسٹیول کا مرکزی موضوع امن، عالمی ربط اور ماحول جیسے مسائل پر ہے۔ فنکاروں کے مطابق AI ایک متضاد قوت ہے: ایک طرف نئی راہیں کھولتی ہے، تو دوسری طرف انسانی اظہار کو مشینی یکسانیت میں بدلنے کا خطرہ پیدا کرتی ہے۔
اس سیشن سے جو بات سب سے زیادہ اُبھری وہ یہ تھی کہ فن کی اصل قدر محنت، وقت، احساس اور انسانی لمس میں ہے۔ وہ پہلا سٹرک جس پر انگلی کانپتی ہے۔ وہ سانس جو اسٹیج پر قدم رکھتے ہوئے ٹوٹتا ہے۔ وہ لفظ جو دل سے نکلتا ہے، نہ کہ کسی کوڈ سے۔
اور کراچی میں اس ہفتے فنکاروں نے واضح کر دیا کہ یہ جوہر وہ کسی بھی مشین کے حوالے نہیں کریں گے۔
