ایسے وقت میں جب دنیا کی خبریں اکثر مایوسی سے بھری محسوس ہوتی ہیں، دو عالمی شہرت یافتہ نام — بیلا حدید اور پیڈرو پاسکل — ایک ایسے مقصد کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں جو صرف شہرت یا شو بزنس سے کہیں بڑا ہے۔ دونوں فنکار آئندہ سال “آرٹسٹس فار ایڈ” کنسرٹ کی میزبانی کریں گے، جس کا مقصد فلسطین اور سوڈان میں جاری انسانی بحرانوں کے متاثرین کے لیے فنڈز جمع کرنا ہے۔
یہ کنسرٹ 10 جنوری 2026 کو فانڈا تھیٹر (لاس اینجلس) میں ہوگا، اور بظاہر یہ اس سیریز کا سب سے بڑا اور نمایاں ایڈیشن ثابت ہونے والا ہے۔ اس پروگرام کا آغاز سودانی نژاد کینیڈین موسیقار اور کارکن مصطفیٰ دی پوئٹ نے کیا تھا — وہی فنکار جس نے اپنی شاعری اور موسیقی کے ذریعے گزرتے برسوں میں ان دونوں خطوں کی تکلیف کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔
موسیقاروں کی ایسی صف جو صرف گلیمر کے لیے نہیں
اس کنسرٹ میں شامل فنکاروں کی فہرست واقعی متاثر کن ہے۔ کلیرو، شُون مینڈس، ڈینیئل سیزر، بلڈ اورنج، لوسی ڈیکَس سمیت کئی معروف موسیقار اسٹیج سنبھالیں گے۔ یہ وہ لائن اپ ہے جو نہ صرف مقبولیت رکھتا ہے بلکہ سماجی معاملات میں بھی حساسیت دکھاتا ہے۔
تقریب کی ساری آمدنی براہِ راست ان تنظیموں کو دی جائے گی جو میدانِ عمل میں جدوجہد کر رہی ہیں:
-
Palestinian Children’s Relief Fund (PCRF)
-
Sudanese American Physicians Association (SAPA)
ان دونوں اداروں کو اس وقت ادویات، حفاظتی سامان، اور بنیادی طبی سہولیات کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
کیوں یہی دونوں میزبان موزوں ہیں؟
بیلا حدید فلسطینی نژاد ہیں اور برسوں سے غزہ و فلسطین کے لیے آواز اٹھاتی رہی ہیں۔ دوسری جانب پیڈرو پاسکل بھی عالمی پناہ گزینوں، بےگھر افراد اور انسانیت سے متعلق مسائل پر کھل کر بات کرتے رہے ہیں۔
یوں یہ کسی بھی طرح کی رسمی جوڑی نہیں — بلکہ دو ایسے لوگ ہیں جن کے لیے یہ مقصد ذاتی اور اخلاقی دونوں سطحوں پر معنی رکھتا ہے۔
جب موسیقی سرحدوں سے آگے نکل کر انسانیت تک پہنچ جاتی ہے
“آرٹسٹس فار ایڈ” کی خاص بات اس کی صداقت ہے۔ یہ کنسرٹ ظاہری نمائش یا سطحی شہرت کے بارے میں نہیں — بلکہ اس بات پر ہے کہ فن کے ذریعے دنیا کی بے حسی کو تھوڑا سا کم کیا جائے، چاہے لمحہ بھر کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔
مصطفیٰ کے پچھلے پروگرام لندن اور نیو جرسی میں ہوئے تھے، دونوں نے نہ صرف فنکاروں بلکہ سامعین کو بھی متاثر کیا۔ لیکن اس بار لاس اینجلس میں ہونے والا کنسرٹ بین الاقوامی سطح پر کہیں زیادہ توجہ حاصل کرنے والا ہے۔
منتظمین کی امیدیں
-
فلسطین اور سوڈان کے متاثرہ خاندانوں کے لیے ہنگامی فنڈز فراہم کرنا
-
دنیا کی توجہ ان بحرانوں کی طرف واپس لانا جنہیں اکثر خبروں میں نظرانداز کر دیا جاتا ہے
-
یہ دکھانا کہ شہرت اور فن، دونوں مل کر حقیقی اثر پیدا کر سکتے ہیں
-
اور شاید سب سے اہم: لوگوں میں وہ ہمدردی دوبارہ جگانا جو شور کے اس دور میں کہیں کھو سی گئی ہے
ایک یاددہانی، کہ انسانیت ابھی باقی ہے
خبریں ہمیں اکثر بےحس کر دیتی ہیں۔ مگر ایسے اجتماعات — جہاں لوگ صرف اس لیے جمع ہوں کہ کہیں دور بیٹھا کوئی شخص تکلیف میں ہے — ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ انسانیت مکمل طور پر مٹی نہیں۔ بس کبھی کبھی اسے ایک اسٹیج، ایک گانا، اور چند سچی آوازوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
