قاہرہ — مصر کی اس صدیوں پرانی شہر نے اس ہفتے ایک ایسی آواز سنی جو عام دنوں میں یہاں کم ہی گونجتی ہے: جنوبِ ایشیا کی روایتی قوالی۔ اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ قاہرہ نے نہ صرف اسے سنا بلکہ پوری دلجمعی سے محسوس بھی کیا۔
یہ لمحہ 18ویں ساما انٹرنیشنل فیسٹیول فار چینٹنگ اینڈ اسپرچوئل میوزک میں قائم ہوا، جہاں پاکستان کے بدر علی—بہادر علی قوال گروپ نے بطور اعزازی مہمان شرکت کی۔ جیسے ہی انہوں نے ہارمونیم چھیڑا اور طبلے کی تھاپ شروع ہوئی، فضا بدلنے لگی — جیسے صدیوں پرانی کہانیاں موسیقی بن کر ہوا میں تیر رہی ہوں۔
دو تہذیبوں کے درمیان ایک روحانی پل
یہ صرف ایک پرفارمنس نہیں تھی۔ یہ دو قدیم ثقافتوں کی ایسی ملاقات تھی جو بنا لفظوں کے بھی سمجھ میں آ جاتی ہے۔
مصر اپنے مذہبی نغموں اور تلاوتی روایتوں کے لیے مشہور ہے، جبکہ پاکستان کی پہچان قوالی اسی خطے کی صوفیانہ روایت سے جڑی ہے۔ اس رات دونوں دنیائیں ایک ہی تال میں آ گئیں — جیسے دو پرانے دوست جن کی ملاقات پہلی بار ہو رہی ہو، مگر دل فوراً پہچان لیں۔
فیسٹیول انتظامیہ کے مطابق پاکستان کی شمولیت جان بوجھ کر رکھی گئی تھی تاکہ مختلف مذاہب اور روایتیں ایک ہی چھت تلے یکجہتی کا احساس پیدا کریں۔
عبادت، مکالمہ اور موسیقی — سب ایک ساتھ
اس سال فیسٹیول کا پیغام ہی سب کچھ بتا دیتا ہے: "Here We Pray Together” — یعنی یہاں ہم اکٹھے دعا کرتے ہیں۔
ساما فیسٹیول ہمیشہ سے صرف موسیقی کا تماشہ نہیں رہا۔ یہ ایک روحانی اجتماع کی طرح ہوتا ہے جہاں مختلف مذاہب کے فنکار اپنی عبادتی دھنیں ایک دوسرے کے سامنے رکھتے ہیں۔ وہاں مقابلہ نہیں ہوتا، صرف احساس ہوتا ہے۔
اور قوالی نے اس احساس کو شدت سے بڑھایا۔
جب بدر علی—بہادر علی گروپ نے اپنی پہلی قوالی شروع کی تو مجمع خاموش ہوگیا — وہ خاموشی جو احترام سے جنم لیتی ہے۔ اور جب قوالی اپنے عروج پر پہنچی، لوگ خودبخود تالیاں بجانے لگے، جیسے دل نے ہاتھ کو خود ہلایا ہو۔
قوالی کی عالمی پہچان—قاہرہ میں ایک نیا باب
قوالی اب صرف مزارات یا چھوٹی محفلوں تک محدود نہیں رہی۔ پچھلی دہائیوں میں یہ دنیا بھر کے اسٹیجز تک پہنچی ہے۔ لیکن قاہرہ جیسے تاریخی شہر میں اسے سننا ایک الگ ہی تجربہ تھا — ایسا لگتا تھا جیسے روایتیں اور زمینیں مل کر ایک نئی کہانی لکھ رہی ہوں۔
قوالی کا اصل کمال ہی یہی ہے:
یہ زبان سے نہیں، احساس سے سمجھ میں آتی ہے۔
اس رات کا نقوش — جو دل میں رہ گئے
اس ایک پرفارمنس نے کئی پل چھوڑے، کچھ ایسے جنہیں وقت بھی مٹانا مشکل ہے:
-
مصری سامعین نے پہلی بار پاکستانی قوالی کی روحانی گہرائی کو قریب سے محسوس کیا
-
پاکستانی فنکاروں نے قاہرہ میں ایک محبت بھرا اسٹیج پایا
-
فیسٹیول نے ایک بار پھر دکھایا کہ موسیقی سرحدیں مٹا سکتی ہے
-
اور شاید سب سے اہم: یہ یاد دہانی کہ دنیا میں جتنی بھی تقسیم ہو، ایک سچی دھن دلوں کو اب بھی جوڑ سکتی ہے
قاہرہ نے قوالی کو صرف سنا نہیں — اسے جذب کیا۔
اور کچھ دیر کے لیے شہر صوفیانہ سرور میں سانس لیتا محسوس ہوا۔
