کراچی سمیت سندھ کے کسی بھی سرکاری اسپتال میں بریسٹ کینسر سمیت دیگر اقسام کے کینسر کے علاج کے لیے کوئی سہولت نا ہونے کے برابر ہے، کینسر کے مریضوں کو علاج کے لیے کسی بھی سرکاری سطح پر ون ونڈو کی سہولتیں بھی ناپید ہیں۔
بریسٹ کینسر کی ابتدائی تشخیص کے لیے کسی بھی سرکاری اسپتال میں میموگرافی کی بھی سہولت موجود نہیں، کراچی اور سندھ کی سطح پر بریسٹ کینسر سمیت کسی بھی اقسام کے کینسر کی کوئی رجسٹری بھی موجود نہیں اور نا ہی کینسر کے مریضوں کا مستند ڈیٹا دستیاب ہے۔
کراچی میں صرف جناح اور سول اسپتال میں کینسر یونٹ موجود ہیں لیکن یہاں آنے والے مریضوں کے لیے بہت محدود سہولت ہے، سول میں صرف کیموتھراپی کی سہولت موجود ہے جبکہ جناح اسپتال میں ریڈی ایشن کی سہولت موجود ہے جہاں پر مریضوں کو لمبی لمبی تاریخ دی جاتی ہے، سندھ میں خواتین میں بریسٹ جبکہ مردوں میں منہ کا کینسر سرفہرست ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایشیا میں پاکستان بریسٹ کینسر میں سرفہرست ہے، اس وقت پاکستان میں خواتین میں بریسٹ کینسر کی شرح 40 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ دیہی علاقوں میں خواتین میں مختلف اقسام کے کینسر میں اضافہ ہو رہا ہے جن میں ماوا گٹکے کے استعمال سے منہ کے کینسر میں 20فیصد، اووری کینسر کی شرح میں 14فیصد اور آنتوں کے کینسر میں 14فیصد اضافہ ہے۔
محکمہ صحت کے ماتحت کراچی سمیت صوبے کے سرکاری اسپتالوں میں ریڈی ایشن تھراپی کے یونٹس موجود نہیں، جناح اسپتال اور کرن اسپتال میں ریڈی ایشن یونٹ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ماتحت ہیں۔ ریڈی ایشن کی سہولتیں کراچی کے دو سے تین نجی اسپتالوں میں موجود ہیں جہاں ریڈی ایشن تھراپی کے ایک سیشن پر 15 سے 20 ہزار روپے تک کے اخراجات آتے ہیں۔
محکمہ صحت کے ماتحت چلنے والے کراچی کے کسی بھی ضلعی اسپتال میں آنکالوجی او پی ڈی اور کینسر کے علاج کی کوئی سہولت میسر نہیں جبکہ طبی ماہرین کے مطابق کینسر تیزی سے پھیل رہا ہے۔ سرکاری سطح میں کینسر کے علاج کی سہولیات نا ہونے کے برابر ہے، پاکستان اٹامک انرجی کے ماتحت چلنے والے جناح اسپتال میں ریڈی ایشن تھراپی یونٹ میں مریضوں کا شدید دباو ہے جس کی وجہ سے مریضوں کو کئی کئی ماہ کی تاریخ دی جاتی ہے۔ طبی ماہرین نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کینسر سے بچاو کی احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔
ماہر انکالوجسٹ اور سول اسپتال شعبہ کینسر کے سابق سربراہ پروفیسر ڈاکٹر نور محمد سومرو نے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ سے زائد مختلف اقسام کے کینسر کے نئے مریض رپورٹ ہوتے ہیں، مردوں میں منہ، حلق جبکہ خواتین میں بریسٹ کینسر سرفہرست ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں ہماری تحقیق کے مطابق ہر سال 20ہزار سے زائد نئے کینسر کے مریض رپورٹ ہو رہے ہیں، یہ حتمی اعدادوشمار نہیں کیونکہ سرکاری سطح پر کینسر کے مریضوں کی رجسٹریشن کا کوئی نظام موجود ہی نہیں۔
ڈاکٹر نور نے بتایا کہ کینسر کا علاج بہت مہنگا ہے اور کینسر کے 4 اسٹیج ہوتے ہیں، اگر ابتدائی طور پر کینسر کی تشخیص ہوجائے تو علاج ممکن ہوتا ہے، تاہم اسٹیج 4 پر کینسر کے مریضوں کا علاج بہت مشکل ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جس انداز میں کینسر تیزی سے پھیل رہا ہے اس لحاظ سے سرکاری سطح پر کینسر کے علاج کی سہولیات نا ہونے کے برابر ہے، جناح اسپتال میں ریڈی ایشن تھراپی پر مریضوں کا شدید دباؤ ہے جس کی وجہ سے ایسے مریضوں کو کئی کئی ماہ کی تاریخ دی جاتی ہے۔ انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کینسر سے بچاو کی احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔
سرکاری اسپتالوں سول اور جناح اسپتال صوبے کے واحد اسپتال ہیں جہاں کینسر کے مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، محکمہ صحت کی کوشش ہے کہ ان سہولتوں میں مزید اضافہ کیا جائے۔
