اسلام آباد: چین نے پاکستان کو 3.4 ارب ڈالر کے کمرشل قرضے رول اوور اور ری فنانس کر دیے ہیں، جس کے بعد پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر آئی ایم ایف کی مقرر کردہ 14 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچنے کی توقع ہے۔
وزارت خزانہ کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق، چین نے 2.1 ارب ڈالر کا قرضہ رول اوور کیا ہے جو پچھلے تین سالوں سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذخائر میں موجود ہے، جبکہ 1.3 ارب ڈالر کا کمرشل قرضہ دوبارہ جاری کیا گیا ہے جو پاکستان نے دو ماہ قبل واپس کیا تھا۔
انہوں نے بتایا، "ان رقوم سے ہمارے ذخائر آئی ایم ایف کے مقرر کردہ ہدف کے مطابق ہو گئے ہیں۔”
اس کے علاوہ پاکستان کو مشرق وسطیٰ کے کمرشل بینکوں سے ایک ارب ڈالر اور کثیرالجہتی مالیاتی اداروں سے مزید 50 کروڑ ڈالر بھی موصول ہوئے ہیں۔ یہ مالی معاونت ایک ایسے وقت میں ملی ہے جب پاکستان اپنی معاشی صورتحال کو مستحکم کرنے اور آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط پوری کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ پیش رفت اس سال 9 مارچ کو چین کی جانب سے پاکستان کو دیے گئے 2 ارب ڈالر کے قرضے کی واپسی کی مدت میں ایک سال کی توسیع کے بعد سامنے آئی ہے۔
پاکستان کا سب سے بڑا دوطرفہ قرض دہندہ چین ہی ہے۔ روزنامہ ’دی نیوز‘ کے مطابق، پاکستان کے کل بیرونی قرضوں کا تقریباً 92 فیصد حصہ تین اہم ذرائع — کثیرالجہتی ادارے، دوطرفہ قرض دہندہ ممالک اور عالمی بانڈز — سے حاصل ہوتا ہے، جن میں چین سرفہرست ہے۔
اگرچہ یہ نئی رقوم حاصل ہو چکی ہیں، لیکن 20 جون 2025 کو اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں 2.66 ارب ڈالر کی کمی کے بعد وہ گھٹ کر 9.06 ارب ڈالر رہ گئے تھے۔ تاہم، حالیہ مالی معاونت کے بعد ذخائر میں بہتری کی توقع ہے جو معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔
