کراچی: سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے ڈائریکٹر جنرل اسحاق کھوڑو نے انکشاف کیا ہے کہ لیاری میں گرنے والی رہائشی عمارت 50 سال سے زائد پرانی اور خستہ حال تھی۔
جائے وقوعہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق کھوڑو نے بتایا کہ ایس بی سی اے کی ٹیکنیکل کمیٹی اور ڈیمولیشن ٹیم متاثرہ مقام پر پہنچ چکی ہے اور واقعے کی تفصیلی تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا، "یہ عمارت ممکنہ طور پر 1979 سے بھی پہلے تعمیر کی گئی تھی، ہم اس بات کی بھی جانچ کر رہے ہیں کہ کیا یہ عمارت ان 526 خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کی فہرست میں شامل تھی یا نہیں۔”
ڈی جی ایس بی سی اے نے مزید بتایا کہ خستہ حال عمارتوں کو خطرناک قرار دے کر اخبارات میں باقاعدگی سے اشتہارات دیے جاتے ہیں تاکہ مکین محتاط ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ "واقعے کی ابتدائی رپورٹ تیار کی جا رہی ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ عمارت گرنے کی اصل وجہ کیا تھی۔”
اسحاق کھوڑو نے خبردار کیا کہ لیاری میں ایسی 50 سے زائد عمارتیں مزید موجود ہیں جو خستہ حالی کا شکار ہیں اور کسی بھی وقت حادثے کا باعث بن سکتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ "کراچی اور حیدرآباد سمیت دیگر شہروں میں بھی خطرناک عمارتوں کا سروے مکمل کیا جا چکا ہے، اور لیاری میں کئی ایسی عمارتوں کو پہلے ہی خالی کرایا جا چکا ہے۔”
ڈی جی ایس بی سی اے کے مطابق، گرنے والی عمارت اور اس کے اطراف کی عمارتوں کا بھی مکمل سروے کیا جا رہا ہے، اور ایک ٹیکنیکل کمیٹی اس بات کا تعین کرے گی کہ عمارت کس تکنیکی یا ساختی خرابی کے باعث زمین بوس ہوئی۔
