کراچی: شہر قائد کے قدیم علاقے لیاری میں واقع بغدادی محلہ ایک دلخراش سانحے کا گواہ بنا، جہاں ایک 50 سالہ پرانی رہائشی عمارت زمین بوس ہو گئی۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق اس حادثے میں 7 افراد جاں بحق جبکہ 8 زخمیوں کو ریسکیو کر کے ابتدائی طبی امداد دی گئی ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق صبح 10:53 پر عمارت گرنے کی اطلاع سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول کو ملی، جس کے فوراً بعد اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم بمع ڈیزاسٹر رسپانس وہیکل جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ مجموعی طور پر 5 ڈیزاسٹر رسپانس وہیکلز، 2 اسنارکلز، درجنوں ایمبولینسیں، کرینز، لفٹرز اور 100 سے زائد اہلکار امدادی کارروائیوں میں مصروف رہے۔
ریسکیو ٹیموں کو عوام کے ہجوم، تنگ گلیوں، نیٹ ورک کے مسائل اور بلاک راستوں کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ملبے تلے مزید افراد کی موجودگی کے پیش نظر سرچ آپریشن تاحال جاری ہے اور مکمل کلیئرنس تک کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ترجمان سندھ حکومت نادر گبول کا بیان:
ترجمان سندھ حکومت نادر گبول کے مطابق متاثرہ عمارت کے مکینوں کو اس کی خستہ حالی سے آگاہ کیا گیا تھا، تاہم ان کا کہنا تھا: "ہم جائیں تو کہاں جائیں؟” نادر گبول نے انکشاف کیا کہ 80 گز کے پلاٹ پر بغیر اجازت کئی منزلہ عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کی انکوائری کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو ذمہ داران کا تعین کرے گی۔ نادر گبول نے کہا کہ ان کے والد نبیل گبول نے بھی ایس بی سی اے حکام سے خستہ حال عمارتوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ کراچی کے کئی علاقوں میں جھونپڑیاں اور غیرقانونی تعمیرات ہو رہی ہیں، اور حکومت وسائل کی کمی کے باوجود خطرناک عمارتوں کے مکینوں کو آگاہی دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ امدادی کارروائیوں میں مشکلات کی ایک بڑی وجہ لیاری کی تنگ گلیاں بھی ہیں، جن میں مشینری اور بھاری گاڑیاں پہنچانے میں دقت ہوتی ہے۔
ڈی جی ایس بی سی اے اسحاق کھوڑو کا انکشاف:
ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) اسحاق کھوڑو نے بتایا کہ منہدم ہونے والی عمارت تقریباً 50 سال پرانی تھی، ممکنہ طور پر 1979 سے پہلے تعمیر کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی کمیٹی تعین کرے گی کہ یہ عمارت کس وجہ سے گری۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی میں ایسی 526 عمارتیں پہلے سے خستہ حال قرار دی گئی ہیں جن کی فہرست جاری کی جا چکی ہے۔ اس عمارت کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا وہ ان فہرستوں میں شامل تھی یا نہیں۔
ایس بی سی اے حکام نے بتایا کہ عمارت اور اس کے اردگرد کی صورتحال کا مکمل سروے کیا جا رہا ہے، جبکہ لیاری میں مزید 50 کے قریب عمارتیں بھی خستہ حالی کا شکار ہیں۔ اسحاق کھوڑو نے یہ بھی بتایا کہ حیدرآباد سمیت سندھ کے دیگر شہروں میں بھی خطرناک عمارتوں کا سروے مکمل کیا جا چکا ہے اور جہاں ممکن ہو، وہاں عمارتیں خالی کرائی گئی ہیں۔
