شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے ملک میں تباہی، ہنگامی امدادی کارروائیاں جاری
سری لنکا میں طوفان دتوا نے زبردست تباہی مچائی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 150 سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں لاپتہ ہو چکے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں شدید بارشوں، طغیانی کے پانی اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ہزاروں افراد کو اپنے گھروں سے منتقل ہونا پڑا ہے۔ حکومت اور ریسکیو ٹیمیں دن رات متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں کر رہی ہیں تاکہ زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا جا سکے اور لاپتہ افراد کی تلاش کی جا سکے۔
طوفان کے باعث ملک کے کئی شہروں میں بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، سڑکیں بند ہو گئی ہیں، پل تباہ ہوئے ہیں اور بجلی کی سپلائی بھی کئی علاقوں میں منقطع ہو گئی ہے۔ خاص طور پر جنوبی اور مشرقی صوبے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، جہاں گاؤں زمین کے دھنسنے کے باعث ملبے تلے دب گئے ہیں۔
سری لنکا کی حکومت نے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور فوج اور پولیس کو ریسکیو آپریشنز میں شامل کیا گیا ہے۔ ہنگامی مراکز قائم کر دیے گئے ہیں جہاں متاثرین کو کھانے پینے اور عارضی رہائش کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ طوفان دتوا ایک انتہائی خطرناک اور تیز رفتار موسمی سسٹم ہے، اور آنے والے دنوں میں مزید شدید بارشیں اور طوفانی ہوائیں آنے کا امکان ہے۔ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی سری لنکا کے لیے ہمدردی کی لہر ہے۔ متعدد ممالک نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی ٹیمیں اور سامان روانہ کیا ہے، جبکہ عالمی ادارے متاثرہ علاقوں میں فوری امداد فراہم کر رہے ہیں۔
سری لنکا میں ماضی میں بھی طوفان اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پیش آ چکے ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق دتوا طوفان حالیہ دہائی کا سب سے شدید اور خطرناک واقعہ ہے۔ حکومتی اور غیر حکومتی تنظیمیں مل کر متاثرین کی مدد کر رہی ہیں اور حالات کے مطابق مزید ریسکیو ٹیمیں بھجوانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
