دسمبر 1، 2025
ویب ڈیسک
جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں طاقتور سمندری طوفانوں اور شدید مون سون بارشوں نے شدید تباہی پھیلا دی ہے، جس کے نتیجے میں ہلاکتیں 1,100 سے زائد ہو گئی ہیں جبکہ لاکھوں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔
گزشتہ ہفتے تین بڑے موسمی نظام جن میں ملاکا کی آبنائے میں بننے والا ایک نایاب سمندری طوفان بھی شامل ہے نے انڈونیشیا، سری لنکا، ملائیشیا، تھائی لینڈ، ویتنام اور فلپائن میں سیلاب اور بھوسکھلن کی صورت میں شدید تباہی مچائی۔
انڈونیشیا سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں 604 افراد ہلاک جبکہ سینکڑوں لوگ لاپتا ہیں۔ تقریباً 3 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور سوماترا کے کئی علاقے مکمل طور پر پانی میں ڈوب گئے ہیں۔
سری لنکا میں ریکارڈ بارشوں کے بعد 366 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں جبکہ 13 لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہوئے۔ کئی مقامات پر اب بھی سڑکیں بند ہیں اور امدادی کارروائیاں متاثر ہیں۔ ہزاروں افراد عارضی شیلٹرز میں منتقل کیے گئے ہیں۔
تھائی لینڈ میں ہلاکتوں کی تعداد 170 تک پہنچ گئی ہے اور ملک ایک دہائی کے بدترین سیلاب سے دوچار ہے۔ ویتنام اور ملائیشیا میں بھی شدید بارشوں کے باعث کشتیوں کے الٹنے، بستیوں کے ڈوبنے اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی اطلاعات ہیں۔
ماہرین کے مطابق سمندری طوفانوں اور شدید بارشوں میں اضافہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے، جس سے سمندر گرم ہوتے ہیں اور طوفان زیادہ طاقتور ہو جاتے ہیں۔
علاقے کے تمام ممالک بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ تباہی کی اصل شدت اب بھی سامنے آ رہی ہے۔
