ڈزنی اور یوٹیوب ٹی وی کے درمیان نشریاتی حقوق (carriage fees) پر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، اور دونوں کمپنیوں کے درمیان نیا معاہدہ نہ ہونے کی وجہ سے یوٹیوب ٹی وی کے لاکھوں صارفین اب ESPN، ABC، FX، اور نیشنل جیوگرافک جیسے بڑے ڈزنی چینلز سے محروم ہیں۔
ڈزنی کا کہنا ہے کہ اس نے یوٹیوب ٹی وی کو ایک نیا معاہدہ پیش کیا ہے جو پچھلے لائسنس کے مقابلے میں کم قیمت پر ہے اور اس میں صارفین کے لیے مزید لچکدار پیکیجز شامل ہیں۔
دوسری جانب یوٹیوب ٹی وی کا مؤقف ہے کہ ڈزنی مارکیٹ ریٹ سے زیادہ قیمت مانگ رہا ہے، جس سے سبسکرپشن فیس میں اضافہ ناگزیر ہو جائے گا۔
یہ بلیک آؤٹ 30 اکتوبر 2025 سے شروع ہوا تھا، جس کے نتیجے میں 20 سے زائد ڈزنی کے ملکیتی چینلز یوٹیوب ٹی وی سے ہٹا دیے گئے۔ ماہرین کے مطابق ڈزنی کو اس دوران تقریباً 3 کروڑ ڈالر فی ہفتہ نقصان ہو رہا ہے، جب کہ یوٹیوب ٹی وی نے صارفین کو 20 ڈالر کا کریڈٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔
پس منظر اور اہمیت
یہ تنازع اس بڑھتی ہوئی کشمکش کی عکاسی کرتا ہے جو اب اسٹریمنگ انڈسٹری میں عام ہوتی جا رہی ہے — ایک طرف کانٹینٹ مالکان (جیسے ڈزنی) ہیں جو اپنے مواد کے بدلے زیادہ آمدنی چاہتے ہیں، اور دوسری طرف ڈسٹری بیوٹرز (جیسے یوٹیوب ٹی وی) ہیں جو قیمتوں کو قابو میں رکھنا چاہتے ہیں۔
براہِ راست کھیلوں کی نشریات (خاص طور پر ESPN) اس لڑائی کا مرکزی نکتہ ہیں، اور اس تنازع کے اثرات مستقبل میں ناظرین کے اخراجات اور لائیو مواد کی دستیابی پر گہرے ہو سکتے ہیں۔
“ہم صارفین کے لیے قیمتیں منصفانہ رکھنا چاہتے ہیں،” — یوٹیوب ٹی وی
“ہم نے ایک مناسب پیشکش دی ہے،” — ڈزنی کا مؤقف
اہم نکات
-
متاثرہ چینلز: ESPN، ABC، FX، Freeform، National Geographic
-
تنازع کی شروعات: 30 اکتوبر 2025
-
نقصان: ڈزنی کو تقریباً 30 ملین ڈالر فی ہفتہ نقصان
-
صارفین کے لیے رعایت: یوٹیوب ٹی وی کا 20 ڈالر کا بل کریڈٹ
-
انڈسٹری اثر: بڑھتی ہوئی “اسٹریمنگ وارز” کے باعث قیمتوں میں اضافہ
یہ کیوں اہم ہے؟
کبھی صارفین نے “کابل فیس” سے بچنے کے لیے اسٹریمنگ سروسز کا انتخاب کیا تھا — مگر اب یہی پلیٹ فارمز قیمتوں اور لائسنسنگ جنگوں کا شکار ہیں۔
ماہرین اسے “دوسری اسٹریمنگ ببل” کہہ رہے ہیں، جہاں طاقتور میڈیا گروپس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز ایک نئی مالی دوڑ میں بندھے ہوئے ہیں۔
