اور پاکستان کے درمیان رواں سال پیدا ہونے والی کشیدگی میں ٹرمپ کے کردار کو سراہنا ہے۔
یہ سفارشاتی خط ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے دستخط سے ناروے کی نوبل کمیٹی کو بھجوایا گیا ہے۔
حکومت کا موقف: ٹرمپ نے جنگ کو روکا
پاکستانی حکومت کے مطابق، ٹرمپ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال کو قابو میں لانے، سیز فائر کے قیام اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں مؤثر کردار ادا کیا۔
ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی بلاجواز جارحیت پاکستان کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی تھی، جس میں بے گناہ شہری، خواتین اور بچے شہید ہوئے۔
جوابی کارروائی میں پاکستان نے آپریشن بنیان المرصوص کے تحت ایک مربوط اور محتاط فوجی حکمت عملی اپنائی، جس کا مقصد دشمن کی جارحیت کو روکنا اور مزید نقصانات سے بچاؤ تھا۔
ٹرمپ نے دونوں ممالک سے سفارتی رابطہ کیا
کشیدگی کے دوران، ٹرمپ نے اسلام آباد اور نئی دہلی دونوں سے سفارتی سطح پر بات چیت کی، جس کے نتیجے میں مزید تباہی کو روکا گیا اور سیز فائر ممکن ہوا۔
پاکستان نے ٹرمپ کو ایک "اصل امن کا داعی” قرار دیا، اور ان کی امن کے لیے عملی سفارت کاری اور مصالحت پسند رویے کی تعریف کی۔
مسئلہ کشمیر پر ٹرمپ کا مؤقف
بیان میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ ٹرمپ پہلے بھی مسئلہ کشمیر حل کرانے کی پیشکش کر چکے ہیں، اور یہ مسئلہ خطے میں امن کے لیے ایک بنیادی رکاوٹ ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے نفاذ پر زور دیا ہے۔
ٹرمپ کا ردعمل
ٹرمپ نے مورِسٹاؤن، نیو جرسی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
“مجھے نوبل انعام تو چار پانچ بار ملنا چاہیے تھا۔”
“چاہے وہ روانڈا ہو، کانگو، سربیا-کوسوو، یا بھارت-پاکستان — لیکن وہ مجھے نہیں دیں گے کیونکہ میں لبرل نہیں ہوں۔”
نوبل امن انعام کیا ہے؟
نوبل امن انعام ان افراد یا اداروں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے امن قائم کرنے، اسلحہ کنٹرول، انسانی حقوق اور جمہوریت کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہو۔
