سوشل میڈیا پر روزانہ سینکڑوں ویڈیوز آتی جاتی ہیں، مگر کبھی کبھار کوئی چھوٹا سا لمحہ سب کی توجہ ایسے کھینچ لیتا ہے کہ لوگ رُک کر دیکھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ دُر فِشاں سلیم کی حالیہ ویڈیو، جس میں وہ ایک سادہ سی نیلی لائن کو “ایک کروڑ روپے کی پینٹنگ” قرار دیتی ہیں، بالکل ویسی ہی ہے۔
یہ ویڈیو ڈائریکٹر دانش نواز نے شیئر کی، جس میں دُر فِشاں ایک وائٹ بورڈ کے پاس کھڑی ہیں۔ بورڈ پر محض ایک لائن بنی ہے — کوئی پیچیدہ فن پارہ نہیں، نہ کوئی بڑی پینٹنگ — بس ایک سادہ سی لکیر۔ دانش نواز ہنستے ہوئے پوچھتے ہیں یہ کیا ہے، تو دُر فِشاں مسکراتی ہیں اور پورے اعتماد سے کہتی ہیں:
"یہ پینٹنگ ایک کروڑ کی ہے۔”
اور بس… یہی جُملہ وائرل ہونے کے لیے کافی تھا۔
سوشل میڈیا کے مزاحیہ ردِعمل
ویڈیو پھیلتے ہی مزاحیہ تبصرے، میمز اور چٹکلوں کی لائن لگ گئی۔ کئی لوگوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ “جدید آرٹ ایسا ہی ہوتا ہے، سمجھ نہ آئے تو مہنگا ہوتا ہے۔” کچھ نے مذاق میں لکھا کہ اگر دُر فِشاں نے بنائی ہے تو واقعی ایک کروڑ کی ہوگی۔
شوبز صفحات نے اسے ایک ہلکے پھلکے لمحے کے طور پر پیش کیا، جبکہ مداحوں نے اس کی سادگی، مزاح اور دُر فِشاں کے اعتماد کو سراہا۔ ویڈیو اتنی تیزی سے پھیلی کہ پاکستانی سوشل میڈیا پر چند گھنٹوں کے اندر ہی ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہوگئی۔
ویڈیو نے اتنی توجہ کیوں حاصل کی؟
بات صرف ایک لائن کی نہیں — بلکہ اس تضاد کی ہے۔ ایک معمولی سا اسکیچ، مگر دعویٰ کروڑوں کا۔ یہی چیز لوگوں کو مزید مزہ دیتی ہے۔ ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھتا ہے:
آخر فن کی قیمت طے کیسے ہوتی ہے؟
کیا نام زیادہ اہم ہوتا ہے یا فن؟
یا بس وائرل ہونے سے چیزیں قیمتی لگنے لگتی ہیں؟
دُر فِشاں کا انداز — پُراعتماد، مزاحیہ اور بالکل بےفکر — پورے سین کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔ یہ واضح تھا کہ وہ خود بھی جانتی تھیں کہ لوگ اس پر خوب ہنسیں گے، اور ہوا بھی یہی۔
بڑا زاویہ: فن، شہرت اور وائرل کلچر
یہ کوئی سنجیدہ آرٹ کلیم نہیں تھا، سب کو پتہ ہے۔ مگر اس نے یہ ضرور دکھایا کہ آج کے دور میں کس طرح ایک چھوٹا سا جملہ پورا آن لائن مکالمہ شروع کر دیتا ہے۔ کبھی فن کی قیمت پر، کبھی مشہور شخصیات کے اثر و رسوخ پر، اور کبھی اس بات پر کہ آخر کون سی چیز وائرل ہو جاتی ہے اور کیوں۔
سادہ لفظوں میں، یہ وہ ہلکا پھلکا لمحہ تھا جس نے سب کو — کم از کم چند منٹ — ہنسنے اور لطف لینے کا موقع دیا۔
