جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ اگر خیبر پختونخوا میں تبدیلی آنی ہے تو وہ پی ٹی آئی کے اندر سے آنی چاہیے۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا، "میری تجویز سامنے آ چکی ہے — صوبے میں تبدیلی ضروری ہے۔” تاہم انہوں نے کہا کہ جے یو آئی (ف) پارٹی مشاورت کے بعد ہی کوئی قدم اٹھائے گی کیونکہ صوبہ مزید سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے صوبائی فنڈز کے غلط استعمال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "یہ رقم صرف مراعات لینے کے لیے ہے۔”
سابق فاٹا کے انضمام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے اسے "غلط فیصلہ” قرار دیا اور کہا کہ قبائلی عوام سے دوبارہ مشاورت کی جائے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جلد ایک قبائلی جرگہ بلایا جائے گا۔
فضل الرحمٰن نے فاٹا کمیٹی کے ارکان پر سوال اٹھایا کہ اس میں کتنے پشتون اور مقامی لوگ شامل ہیں۔ "ہم سے نام مانگا گیا ہے، اب وہ ہمیں فریق تسلیم کرتے ہیں،” انہوں نے کہا۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ پیپلز پارٹی، ن لیگ اور اے این پی سے اختلافات ہیں مگر دشمنی نہیں۔ "اگر اپوزیشن امن و امان پر بات کرنا چاہے تو ہم تیار ہیں،” فضل الرحمٰن نے کہا۔
