وفاقی حکومت نے نِپاہ وائرس کے ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد کیا، جس میں وائرس کی روک تھام اور حکومتی تیاریوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی ہدایت پر ہوا، جس کی صدارت سیکرٹری صحت حامد یعقوب شیخ نے کی۔
اجلاس میں ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر عبدالولی خان، قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ)، وفاقی اسپتالوں، آئی ڈی ایس آر اور بارڈر ہیلتھ سروسز کے حکام نے شرکت کی۔ ڈی جی ہیلتھ نے اجلاس کو نِپاہ وائرس کی موجودہ صورتحال اور حکومتی تیاریوں پر بریفنگ دی۔
ذرائع کے مطابق نِپاہ وائرس کی منتقلی روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات جاری ہیں جبکہ ملکی داخلی مقامات پر مسافروں اور عملے کی اسکریننگ کا عمل بھی مسلسل جاری ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ اب تک ملک میں انسانوں یا جانوروں میں نِپاہ وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
اجلاس میں بھارت میں مشتبہ نِپاہ وائرس کیسز سامنے آنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور اسے خطرے کی گھنٹی قرار دیا گیا۔ حکام کا کہنا تھا کہ وائرس کی روک تھام کے لیے پیشگی اور مؤثر سرویلنس ناگزیر ہے۔ اس سلسلے میں قومی ادارہ صحت اور بارڈر ہیلتھ سروسز کے سرویلنس اور اسکریننگ سسٹمز کا بھی جائزہ لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں وفاقی اسپتالوں میں آئیسولیشن وارڈز، تربیت یافتہ عملے اور دیگر حفاظتی انتظامات پر بھی غور کیا گیا۔ وزارتِ صحت کے مطابق نِپاہ وائرس پھل خور چمگادڑ اور سور کے ذریعے پھیلتا ہے، جبکہ شمالی علاقہ جات کے پہاڑوں اور مارگلہ کی پہاڑیوں میں پھل خور چمگادڑیں موجود ہیں۔
این آئی ایچ حکام نے بتایا کہ ملک میں نِپاہ وائرس کی موجودگی یا پھیلاؤ کا کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں اور مجموعی طور پر خطرہ کم ہے، تاہم چمگادڑوں کی موجودگی کے باعث پھیلاؤ کے خدشے کو مکمل طور پر خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔
حکام کے مطابق قومی ادارہ صحت کے پاس نِپاہ وائرس کی تشخیصی صلاحیت موجود ہے اور پی سی آر کٹس کے ذریعے تشخیص ممکن ہے، تاہم اس وائرس کے علاج کے لیے تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا اینٹی وائرل دوا دستیاب نہیں۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ نِپاہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بروقت تشخیص اور فوری آئیسولیشن انتہائی ضروری ہے۔ سیکرٹری صحت نے متعلقہ اداروں کو پیشگی اور مؤثر حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
