کراچی — وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے نجی بینک کے منیجر کو 420 ملین روپے کی مشکوک ٹرانزیکشنز اور جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے فراڈ میں ملوث ہونے پر گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم پر الزام ہے کہ اس نے بینک کے اندرونی سیکیورٹی پروٹوکولز کو نظر انداز کر کے بھاری رقوم کی غیر قانونی منتقلی میں سہولت کاری کی۔
ایف آئی اے کے کمرشل بینکنگ سرکل (سی بی سی) نے ایک فرانزک آڈٹ کے بعد کارروائی کی۔ تفتیشی ٹیموں کو اکاؤنٹس میں ایسی بڑی ٹرانزیکشنز ملی ہیں جن کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں تھا۔ ابتدائی تفتیش سے پتا چلا ہے کہ منیجر نے "بینامی” شناختوں پر متعدد اکاؤنٹس کھولے اور ان کے ذریعے کروڑوں روپے کی رقم منتقل کی۔
یہ صرف ایک اکاؤنٹ کا معاملہ نہیں، بلکہ ایف آئی اے حکام کا ماننا ہے کہ منیجر کا تعلق ایک منظم گروہ سے ہے جو منی لانڈرنگ میں ملوث ہے۔ اب تک کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ رقم کی منتقلی کے لیے بینک کے داخلی نظام کا سہارا لیا گیا، جس سے بینک کے اندر موجود ملی بھگت کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
ایف آئی اے کے ایک ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ "رقم کی منتقلی کا طریقہ کار انتہائی مہارت سے بنایا گیا تھا تاکہ اصل ذرائع کو چھپایا جا سکے۔ اب ہماری ٹیمیں یہ دیکھ رہی ہیں کہ یہ رقم کہاں سے آئی اور اس کا حتمی فائدہ اٹھانے والا کون ہے۔”
گرفتاری کے وقت ایف آئی اے نے منیجر کے دفتر سے اہم دستاویزات اور الیکٹرانک ڈیٹا قبضے میں لے لیا ہے۔ ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ اس ڈیٹا سے بینک کے دیگر ملازمین کے ملوث ہونے کے شواہد بھی مل سکتے ہیں۔
عدالت نے ملزم کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا ہے۔ تفتیشی ٹیمیں اب بینک کے سرور لاگز کو کھنگال رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس نیٹ ورک کی جڑیں کتنی گہری ہیں اور کتنے عرصے سے یہ غیر قانونی کھیل کھیلا جا رہا تھا۔
ملک میں جاری معاشی بحران کے دوران بینکنگ شعبے میں اس قسم کی بدعنوانی نے مالیاتی اداروں کی ساکھ پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایف آئی اے اب ان "گیٹ کیپرز” پر ہاتھ ڈال رہی ہے جو بینکوں میں بیٹھ کر مجرموں کو مالی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اس کیس میں مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔
