دوحہ فلم فیسٹیول اس سال صرف چمک دمک یا ریڈ کارپٹ تقریبات کی وجہ سے نہیں بلکہ دو ایسی فلموں کی وجہ سے بھی بہت توجہ حاصل کر رہا ہے جو ناظرین کو سیدھا اس دور میں واپس لے جاتی ہیں جب عراق اور لیبیا پر صدام حسین اور معمر قذافی کی سخت حکومتیں مسلط تھیں۔
وہ زمانے خوف، خاموشی اور ایک مسلسل اندرونی جدوجہد کے تھے — اور یہی سب کچھ ان فلموں میں بڑی حقیقت پسندی سے دکھایا گیا ہے۔
دو آمریتیں، دو کہانیاں — مگر درد مشترکہ
پہلی نمایاں فلم "دی پریزیڈنٹز کیک” عراقی ہدایتکار حسن ہادی کی تخلیق ہے۔
اس کی کہانی نو سالہ لامیہ کے گرد گھومتی ہے — ایک یتیم بچی جو 1990 کی دہائی کے صدام دور میں اپنی نانی کے ساتھ رہتی ہے۔ معاشی پابندیوں نے ملک کو گھٹن میں دھکیل رکھا ہے، کھانے پینے جیسی بنیادی چیزیں بھی نایاب ہیں۔ ایسے میں اسکول کی جانب سے لامیہ کو صدر کے لیے سالگرہ کا کیک بنانے کا حکم ملتا ہے — ایک ایسا مطالبہ جو حالات دیکھ کر تقریباً ناممکن لگتا ہے۔
لامیہ کی یہ جدوجہد اس دور کے عام لوگوں کی بے بسی، محرومی اور خوفزدہ روزمرہ زندگی کی دل دہلا دینے والی تصویر پیش کرتی ہے۔
دوسری فلم "مائی فادر اینڈ قذافی” ہدایتکار جہان کے کی انتہائی ذاتی دستاویزی فلم ہے۔
اس میں وہ اپنے والد کی گمشدگی کی کہانی بیان کرتی ہیں — ایک ایسے لیبیائی سفارتکار کی جو قذافی حکومت کے خلاف ہونے پر 1993 میں لاپتا کر دیا گیا تھا۔
اس کی لاش بیس برس بعد، لیبیا کی بغاوت کے بعد ہی ملی۔
فلم ایک خاندان کے دردناک انتظار، سوالوں اور سچ کی تلاش کو لیبیا کی سیاسی تاریخ کی بڑی کہانی کے ساتھ جوڑتی ہے۔
یہ فلمیں دل پر کیوں اثر چھوڑتی ہیں؟
عرب دنیا میں صدام اور قذافی صرف حکمران نہیں تھے — وہ پورے دور کا نام ہیں:
ایسا دور جس میں شک، خوف اور ریاستی طاقت نے لوگوں کی سانسوں تک کو قید کر رکھا تھا۔
بہت سے لوگ اس دور سے خود گزرے، اور باقیوں نے گھر کی چپ کے اندر کہانیاں سنیں جو باہر کبھی نہیں دہرائی جا سکتی تھیں۔
دوحہ فلم فیسٹیول ان خاموش یادوں کو دوبارہ پردے پر لا کر ایک اہم کام کر رہا ہے —
وہ نسلیں جنہوں نے یہ خوف ناک دور نہیں دیکھا، انہیں سمجھا رہا ہے کہ وہ وقت کیسا تھا۔
اور جنہوں نے یہ دور جھیلا، انہیں یہ یاد دلا رہا ہے کہ ان کی کہانیاں کبھی مٹی نہیں تھیں — انہیں بس بولنے کا موقع نہیں ملا تھا۔
ناظرین کا ردِ عمل — تکلیف دہ مگر ضروری
فیسٹیول میں شریک لوگوں نے ان فلموں کو "دل ہلا دینے والی”، "غیر معمولی طور پر سچی” اور "مشکل مگر لازمی” قرار دیا ہے۔
لامیہ کا کردار ادا کرنے والی کم عمر اداکارہ کی سچّی اور متاثر کن اداکاری نے ناظرین کو خاصا متاثر کیا، جبکہ دستاویزی فلم کو اس کی دیانت دار اور سادہ پیشکش کی وجہ سے خوب داد ملی۔
بہت سے دیکھنے والوں کے لیے یہ فلمیں محض تفریح نہیں — بلکہ یادیں اور زخموں کی وہ پرتیں ہیں جنہیں سمجھنا بھی ضروری ہے اور محفوظ رکھنا بھی۔
ماضی کو سمجھنے کا پل — سینما
ایک ایسے دور میں جب خبریں بدلتی دیر نہیں لگتی اور تاریخ ویب پوسٹس کے نیچے گم ہو جاتی ہے،
یہ فلمیں یاد دلاتی ہیں کہ حقیقی کہانیاں وہ ہوتی ہیں جو عام لوگوں نے اپنی زندگی اور خوف سے لکھی ہوں۔
اور دوحہ فلم فیسٹیول اپنے انتخاب کے ذریعے یہ بتا رہا ہے کہ سینما کا اصل مقصد صرف وقت گزارنا نہیں —
بلکہ وہ یادیں روشن رکھنا ہے جنہیں دنیا بھول جانا چاہتی ہے۔
