نومبر 27، 2025
ویب ڈیسک
کیوبیک حکومت نے ایک نیا بل پیش کیا ہے جس کا مقصد عوامی عبادت پر پابندیاں عائد کرنا اور مذہبی علامات پر پابندی کو سبسڈائزڈ ڈے کیئر ملازمین تک بڑھانا ہے۔ یہ بل، جس کا نام قانون برائے تقویتِ لایسیٹی کیوبیک ہے، وزیرِ اعلیٰ فرانسوا لیگو کی حکومت کے پہلے سے نافذ سیکولر ازم قوانین کو مزید مضبوط کرتا ہے۔
بل کے تحت سبسڈی یافتہ ڈے کیئرز اور نجی اسکولوں کے کارکنان کے لیے مذہبی علامات جیسے حجاب پہننے پر پابندی ہوگی، تاہم جو ملازمین پہلے سے اپنے عہدوں پر موجود ہیں انہیں استثنیٰ دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ سرکاری اداروں کو ایسے کھانے فراہم کرنے سے بھی روکا جائے گا جو کسی مخصوص مذہبی روایت، جیسے حلال یا کوشر، پر مبنی ہوں۔
بل میں عوامی اداروں اور عوامی مقامات جیسے پارکس، سڑکیں اور سرکاری عمارتیں میں اجتماعی نماز یا دعا پر پابندی بھی شامل ہے، جب تک کہ مقامی حکومت کی جانب سے خصوصی اجازت نہ دی جائے۔ مذہبی نجی اسکولوں کے لیے سرکاری فنڈنگ بھی بتدریج ختم کی جائے گی اگر وہ طلبہ یا عملے کا انتخاب مذہب کی بنیاد پر کریں یا مذہبی مواد پڑھائیں۔
اس بل میں فریڈم آف ورشپ ایکٹ کو ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جو پہلے مذہبی عبادت کے آزادانہ حق کی ضمانت دیتا تھا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ تبدیلیاں ریاستی غیرجانبداری کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے مذہبی آزادی مزید محدود ہوسکتی ہے۔
