دسمبر 6، 2025
ویب ڈیسک
نئی دہلی میں 29 نومبر کو منعقدہ نیشنل کرسچن کنونشن میں مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 2,000 مسیحیوں نے حکومت سے مذہبی آزادی کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ سی ایس ڈبلیو کے مطابق 2014 سے 2024 کے دوران مسیحیوں پر حملوں میں 500 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
یونائیٹڈ کرسچن فورم (UCF) کے مطابق 2024 میں 830 سے زائد حملے رپورٹ ہوئے، جبکہ 2014 میں یہ تعداد صرف 139 تھی۔ ان واقعات میں پادریوں پر حملے، جبری تبدیلیٔ مذہب کے بے بنیاد الزامات، اور گرجا گھروں کی توڑ پھوڑ شامل ہیں۔ شرکا نے اینٹی کنورژن قوانین اور 1950 کے صدارتی آرڈر پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا، جو دلت مسیحیوں کو شیڈول کاسٹ کا درجہ نہیں دیتا۔
مقررین نے کہا کہ امتیازی قوانین دلت برادریوں کو تعلیم، روزگار اور زمین کے حقوق سے محروم رکھ کر نسل در نسل غربت میں دھکیل رہے ہیں۔ اسی دوران چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ اور اوڈیشہ جیسے معدنی علاقوں میں قبائلی مسیحیوں کو شیڈول ٹرائب لسٹ سے نکالنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے باہر 3,500 افراد نے احتجاج کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت حملوں کو روکنے میں ناکام ہے اور اکثر متاثرین کو ہی گرفتار کر لیا جاتا ہے۔
سی ایس ڈبلیو نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مذہبی آزادی کے آئینی تحفظات کو یقینی بنایا جائے اور حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ کنونشن کے شرکا نے اعلان کیا کہ وہ مسیحیوں اور دلتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قومی منشور تیار کریں گے۔ یو ایس سی آئی آر ایف نے بھی بھارت کو "تشویش کے حامل ملک” قرار دینے کی سفارش کی ہے، کیونکہ وہاں مذہبی آزادی کی منظم خلاف ورزیاں جاری ہیں۔
