MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
بلاگ

کیمپالا سے نیویارک کے میئر تک: ایک اُمید، ایک سفر – زوہران مامدانی کی کہانی

Last updated: جون 28, 2025 7:39 شام
Hannan Khani
Share
SHARE

نیویارک، وہ شہر جسے دنیا خوابوں کا شہر کہتی ہے۔ جہاں بلند عمارتیں، تیز رفتار زندگی، اور ہر کونے میں ایک نئی کہانی جنم لیتی ہے۔ اور انہی لاکھوں کہانیوں میں ایک کہانی ہے زوہران مامدانی کی—ایک شعیہ مسلمان، ایک مہاجر، ایک ریپر، اور اب نیویارک سٹی کا ممکنہ میئر۔ یہ کہانی صرف ایک شخص کی نہیں، یہ ان لاکھوں نوجوانوں کی ہے جو جنوب ایشیاء سے امریکہ ہجرت کرتے ہیں، خوابوں کا پیچھا کرتے ہیں، اور دنیا کو بدلنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

آغاز: یوگنڈا سے سفر کا پہلا قدم

زوہران مامدانی 18 اکتوبر 1991 کو یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد، محمود مامدانی، گجراتی شعیہ پس منظر کے ساتھ ایک معروف ماہرِ نوآبادیاتی مطالعہ اور کولمبیا یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، جبکہ والدہ میرا نائر ایک مشہور بھارتی نژاد فلم ساز ہیں، جنہیں پدما بھوشن جیسے اعلیٰ اعزاز سے نوازا جا چکا ہے۔

ان کے نام "کوامے” کی وجہ؟ افریقہ کے عظیم لیڈر، گھانا کے پہلے صدر، کوامے نکروما سے متاثر ہوکر رکھا گیا تھا۔ شاید اسی وقت ان کے والدین کو معلوم تھا کہ ان کا بیٹا بھی ایک دن دنیا کے سب سے بڑے شہروں میں سے ایک کا رہنما بنے گا۔

جنوبی افریقہ سے نیویارک: ابتدائی عمر میں بدلتی دنیا

جب زوہران پانچ سال کے تھے تو ان کا خاندان جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن منتقل ہوگیا۔ وہاں وہ سینٹ جارجز گرامر اسکول میں زیرِ تعلیم رہے۔ صرف دو سال بعد وہ نیویارک آگئے، جہاں انہوں نے اپر ویسٹ سائیڈ پر رہائش اختیار کی۔

برونکس ہائی اسکول آف سائنس میں تعلیم کے دوران انہوں نے نائب صدر کا انتخاب لڑا، لیکن ہار گئے۔ لیکن یہی پہلا قدم تھا سیاست کی طرف۔ بعد میں وہ مین کے باوڈوئن کالج گئے، جہاں سے 2014 میں انہوں نے "افریکانا اسٹڈیز” میں گریجویشن کیا۔ یہاں انہوں نے "Students for Justice in Palestine” کے چیپٹر کی بنیاد رکھی—ایک ایسا عمل جو ان کی مستقبل کی سیاسی سمت کا اشارہ دے رہا تھا۔

ریپر سے رہنما: موسیقی اور مزاحمت کی زبان

زوہران صرف ایک سیاسی کارکن ہی نہیں، بلکہ ایک فنکار بھی ہیں۔ انہوں نے "Young Cardamom” کے نام سے یوگنڈن ریپر HAB کے ساتھ ایک EP تیار کی، جس کا عنوان تھا Sidda Mukyaalo یعنی "دیہات واپسی کا کوئی راستہ نہیں”۔ 2019 میں انہوں نے "Mr. Cardamom” کے نام سے گانا "Nani” جاری کیا، جس کی ویڈیو میں مشہور اداکارہ مادھور جعفری ان کی دادی کا کردار ادا کرتی نظر آئیں۔

اسی دوران انہوں نے اپنی والدہ کی فلم "Queen of Katwe” کا میوزک بھی تیار کیا اور اس کے لیے "Guild of Music Supervisors” کی جانب سے نامزدگی حاصل کی۔ یہ واضح تھا کہ زوہران صرف ایک پلیٹ فارم تک محدود رہنے والے نہیں تھے۔

پہلا قدم سیاست میں: نیویارک کی گلیوں سے اسمبلی تک

زوہران نے نیویارک میں اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 2015 میں کیا جب وہ علی نجمی کی سٹی کونسل کی مہم میں رضاکار بنے۔ اس کے بعد وہ 2017 میں ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ (DSA) میں شامل ہوئے، اور خضر الیاتیِم اور ٹفنی کابان جیسے امیدواروں کی انتخابی مہمات میں کلیدی کردار ادا کیا۔

2019 میں انہوں نے خود میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا، اور کوئنز کے 36ویں اسمبلی ڈسٹرکٹ سے امیدوار بن گئے۔ ان کی مہم کی بنیاد تھی: ہاؤسنگ ریفارم، پولیس اور جیل کا نظام بدلنے کا مطالبہ، اور پبلک یوٹیلیٹیز کی عوامی ملکیت۔ 2020 کے پرائمری میں انہوں نے ایک پرانے سیاستدان کو ہرا کر سب کو حیران کر دیا، اور پھر مسلسل دو بار بلامقابلہ منتخب ہوتے رہے۔

میئرل ریس 2025: ایک خواب کی تعبیر

2024 میں انہوں نے نیویارک کے میئر کے لیے اپنی امیدواری کا اعلان کیا۔ ان کا منشور جرأت مندانہ تھا:

  • شہر بھر میں مفت بسیں

  • کرایہ منجمد کرنا

  • ہر بورو میں سرکاری گروسری اسٹورز

  • 200,000 نئے قابلِ برداشت گھروں کی تعمیر

  • یونیورسل چائلڈ کیئر

  • فری CUNY/SUNY تعلیم

انہیں Alexandria Ocasio-Cortez، برنی سینڈرز، اور Brad Lander جیسے سیاستدانوں کی حمایت حاصل ہوئی۔ لیکن ہر سفر آسان نہیں ہوتا—New York Times جیسے اداروں نے ان پر تنقید کی، Andrew Cuomo جیسے مضبوط مخالفین کا سامنا کیا، اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں "100% کمیونسٹ لونی” کہا۔

پھر بھی، زوہران نے تمام تر مخالفت کے باوجود پرائمری میں حیران کن کامیابی حاصل کی، اور آج وہ نیویارک کے پہلے جنوبی ایشیائی، پہلے مسلمان، پہلے ملینئل، اور پہلے یوگنڈین نژاد ممکنہ میئر ہیں۔

ایک علامت: تارکین وطن کے لیے اُمید

زوہران مامدانی کی کہانی ایک نوجوان کے خواب کی کہانی ہے، جو اپنے والدین کے ساتھ یوگنڈا سے چلا، جنوبی افریقہ سے ہوتا ہوا نیویارک کی سڑکوں تک پہنچا، اور آج اس شہر کے سب سے اہم عہدے کے دروازے پر کھڑا ہے۔

اس کہانی میں ہمیں صرف سیاستدان نہیں ملتا، بلکہ ایک امید، ایک وژن، اور ایک نئی نسل کی نمائندگی نظر آتی ہے۔ اس کا پیغام واضح ہے:
"یہ شہر صرف امیروں کا نہیں، یہ اُن خواب دیکھنے والوں کا بھی ہے جن کے پاس حوصلہ ہے۔”

"کبھی سوچا تھا کہ یوگنڈا سے آیا ہوا ایک بھارتی نژاد شعیہ ریپر، نیویارک کا میئر بن جائے گا؟
یہی تو ہے نیویارک—جہاں سب کچھ ممکن ہے!”

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article شمالی وزیرستان میں خودکش حملہ: کم از کم 8 سیکیورٹی اہلکار شہید، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا
Next Article کسی خوش فہمی میں نہ رہیں: پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، آرمی چیف
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
لاہور میں چیف منسٹر ایڈلٹ کارڈیک سرجری پروگرام کا آغاز
Health
مارچ 25, 2026
چیا سیڈز ہر کسی کیلئے مفید نہیں: طبی ماہرین کی اہم وارننگ
Health
مارچ 25, 2026
وزن میں کمی سے مدافعتی نظام بہتر، کینسر کا خطرہ کم ہو جاتا ہے
Health
مارچ 25, 2026
ہائی کولیسٹرول دبلے افراد میں بھی دل کے دورے کا سبب بن سکتا ہے، ماہر امراض قلب
Health
مارچ 25, 2026
تپ دق صحت، سماجی اور معاشی چیلنج، مکمل خاتمہ کیا جائے گا: شہباز شریف
Health
مارچ 24, 2026
ہیپاٹائٹس سی کی زیرِ آزمائش دوا سے متعلق انکشاف
Health
مارچ 24, 2026

You Might Also Like

بلاگ

چاند کی روشنی یا وہم؟ ماہرین کے مطابق نیند پر اصل اثر مصنوعی روشنی کا ہے

By Wajeeha Batool
بلاگ

"سگریٹ نوشی” موت کا کش دھیرے دھیرے پاکستان کے مستقبل کو نگلتا خاموش قاتل”

By Sana Mustafa
بلاگ

انڈونیشیا میں نئی گرجا گھریں مذہبی رواداری کی امید بن گئیں

By Wajeeha Batool
Uncategorizedبلاگ

حضرت امام حسین علیہ السلام اور حضرت عباس علمدار علیہ السلام کے روضہ پر سرخ علم کیوں لگایا گیا ہے اور ایران کی اسرائیل سے جنگ کے بعد یہ پرچم مسجد جمکران اور امام بارگاہوں پر لگانے کی کیا وجہ ہے؟ 

By Wajeeha Batool
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?