گیٹس فاؤنڈیشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2030 تک خواتین کی صحت پر 2.5 ارب ڈالر خرچ کرے گی۔ یہ سرمایہ کاری ماں اور بچے کی صحت، غذائیت، مانع حمل سہولیات اور دیگر شعبوں پر ہوگی، خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک میں۔
بل گیٹس کا کہنا ہے کہ آج بھی کئی خواتین ایسی بیماریوں سے جان گنوا دیتی ہیں جن سے بچا جا سکتا ہے۔ فاؤنڈیشن چاہتی ہے کہ خواتین کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے نئی تحقیق اور سہولتیں دی جائیں۔
ڈاکٹر انیتا زیدی نے کہا کہ خواتین کو طبی تحقیق میں نظر انداز کیا گیا ہے، جس سے ان کا علاج بھی کمزور ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اب خواتین کی صحت پر فوری توجہ اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں فاؤنڈیشن پہلے سے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے، جیسے نشوونما پروگرام کے ذریعے ماں اور بچے کی غذائیت، اور آوازِ صحت جیسا موبائل ٹول جو خواتین کو ان کی صحت سے متعلق معلومات دیتا ہے۔
ڈاکٹر زیدی نے کہا کہ پاکستان میں نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات دنیا میں سب سے زیادہ ہے، اور اس کی بڑی وجہ خواتین کی صحت کا نظر انداز ہونا ہے۔ ان کا کہنا تھا، "جب تک خواتین کو ترقی کے مرکز میں نہیں رکھا جائے گا، پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔
