کئی ممالک میں ہنٹا وائرس کے حالیہ کیسز اور اس سے متعلق بڑھتی ہوئی عوامی توجہ نے صحت عامہ کے اداروں کے لیے مؤثر آگاہی مہمات چلانے کا ایک نیا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کووڈ-19 وبا کے بعد صحت سے متعلق معلومات کے پھیلاؤ، غلط معلومات اور عوامی اعتماد کے مسائل کے باعث نئے متعدی امراض کے بارے میں درست پیغام رسانی پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہے۔
ہنٹا وائرس ایک نایاب لیکن ممکنہ طور پر سنگین بیماری ہے جو عموماً متاثرہ چوہوں اور دیگر جونداروں کے پیشاب، فضلے یا لعاب سے آلودہ ذرات کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ وائرس عام طور پر انسان سے انسان میں نہیں پھیلتا اور اس کا تعلق کووڈ-19 ویکسین یا دیگر معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری سے نہیں ہے۔
صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ معلومات اور افواہیں عوام میں خوف اور الجھن پیدا کر سکتی ہیں۔ اسی لیے سرکاری ادارے اور طبی ماہرین درست، بروقت اور سائنسی بنیادوں پر معلومات فراہم کرنے پر زور دے رہے ہیں تاکہ غلط فہمیوں کا سدباب کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق کووڈ-19 کے بعد عوام صحت کے خطرات کے حوالے سے زیادہ حساس ہو چکے ہیں، تاہم اسی دوران غلط معلومات کے پھیلاؤ میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ہنٹا وائرس سے متعلق آگاہی مہمات میں اس بات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے کہ بیماری کے پھیلاؤ کے حقیقی ذرائع، علامات اور احتیاطی تدابیر کے بارے میں واضح معلومات فراہم کی جائیں۔
صحت عامہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مؤثر پیغام رسانی میں شفافیت، سائنسی شواہد اور عوام کے ساتھ مسلسل رابطہ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ہنٹا وائرس جیسے امراض سے نمٹنے کے لیے صرف طبی اقدامات ہی کافی نہیں بلکہ درست معلومات کی فراہمی اور عوامی اعتماد کی بحالی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
حکام نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صحت سے متعلق معلومات صرف مستند ذرائع سے حاصل کریں، گھروں اور کام کی جگہوں پر چوہوں کی موجودگی کو کنٹرول کریں، اور اگر بخار، جسم درد، سانس لینے میں دشواری یا دیگر مشتبہ علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر طبی مشورہ حاصل کریں۔
