ٹوئچ اسٹریمر حسن پیکر، جو آن لائن دنیا میں حسن ابی (HasanAbi) کے نام سے مشہور ہیں، کو تیانانمین اسکوائر میں براہِ راست نشریات کے دوران اس وقت چینی سیکیورٹی اہلکاروں کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے مبینہ طور پر اپنے فون پر چیئرمین ماؤ کی ایک میم دکھائی۔ اس واقعے کے بعد ان کی لائیو اسٹریم عارضی طور پر روک دی گئی، جس نے سوشل میڈیا پر وسیع بحث کو جنم دیا۔
آن لائن شیئر کی گئی ویڈیوز اور پوسٹس کے مطابق، چینی حکام میم اسکرین پر ظاہر ہونے کے فوراً بعد پیکر اور ان کی ٹیم کے قریب پہنچ گئے۔ ایک مترجم کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ، "وہ آپ کے فون دیکھنا چاہتے ہیں،” جس کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے گروپ کے آلات کی جانچ کا مطالبہ کیا۔ تقریباً دس منٹ بعد نشریات اس وقت بحال ہوئیں جب اہلکاروں نے معائنہ مکمل کرلیا۔
پیکر، جنہوں نے ماضی میں اپنی تبصروں میں چینی کمیونسٹ پارٹی (CCP) کے لیے ہمدردانہ خیالات کا اظہار کیا تھا، اس واقعے پر واضح طور پر حیران دکھائی دیے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز میں انہیں حکام کے ساتھ تعاون کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جب وہ ان کے لائیو اسٹریمنگ آلات اور لائٹنگ گیئر کی جانچ کر رہے تھے، جس کا جواز مقامی حفاظتی قوانین سے دیا گیا۔
یہ واقعہ آن لائن مخلوط ردِعمل کا باعث بنا۔ کچھ صارفین نے چین کی میڈیا پر سخت پابندیوں کی مذمت کی، جبکہ دیگر نے پیکر کا طنزیہ انداز میں مذاق اڑایا، اسے ان کے ماضی کے سی سی پی کے حق میں بیانات کا الٹا اثر قرار دیا۔
اس ملاقات کی ویڈیو اب وائرل ہوچکی ہے، جسے لاکھوں افراد دیکھ چکے ہیں، اور اس نے چین میں سنسرشپ اور ریاستی کنٹرول سے متعلق جاری بحث کو مزید ہوا دی ہے۔
