اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ کینسر کا علاج موجود ہے، لیکن پولیو کا کوئی علاج نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے 200 سے زائد ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں، لیکن پاکستان اور افغانستان میں وائرس اب بھی موجود ہے۔
پولیو ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے صاف پانی اور سیوریج کے نظام کی بہتری کو ضروری قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ویکسینیشن مہم کامیاب ہے اور وہ جلد پولیو فری ہو سکتا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا، "ہم پہلے لوگوں کو بیمار کرتے ہیں، پھر اسپتال بناتے ہیں، اگر ہر گلی میں اسپتال ہو تب بھی وہ کم ہوں گے۔”
انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی وسائل پر بوجھ ڈال رہی ہے، اور اگر یہی صورتحال رہی تو 2030 تک پاکستان دنیا کی چوتھی بڑی آبادی بن جائے گا۔
ادھر حکومت نے عالمی اداروں کی ہدایت پر کراچی، لاہور اور پشاور میں بچوں کو پولیو کے انجکشن لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔
پولیو پروگرام کے مطابق 15 سال تک کے بچوں کو آئندہ چار ماہ میں مرحلہ وار ویکسینیشن مہم کے دوران پولیو کے انجکشن لگائے جائیں گے۔
