وانا: کیڈٹ کالج وانا میں موجود تمام طلبہ اور اساتذہ کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے آخری مرحلے میں داخل ہو کر علاقے کو کلیئر کرنے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کم از کم تین دہشت گرد اب بھی کالج کے احاطے میں موجود ہیں، تاہم وہ طلبہ کے رہائشی بلاک سے دور ہیں۔
ذرائع کے مطابق فورسز نے پیر کے روز کے حملے میں دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا تھا، جب کہ علاقے کی مکمل تلاشی کا عمل جاری ہے تاکہ کسی بھی مزید خطرے کو ختم کیا جا سکے۔ واقعے کے دوران 15 عام شہری اور 4 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے، جن میں نائب صوبیدار تابش، لانس حوالدار شکیل اور سپاہی عبداللہ و وقاص شامل ہیں۔
حملہ ایک خودکش دھماکے سے شروع ہوا جو کالج کے مرکزی دروازے پر کیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق اس کے فوراً بعد مسلح افراد نے کالج میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ ایک مزدور، جسے سیکیورٹی فورسز نے بچایا، نے بتایا کہ اس وقت کالج کے اندر مسجد کی تعمیر کا کام جاری تھا اور حملہ آوروں کی تعداد تین سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق تقریباً 650 افراد اس وقت کالج میں محصور تھے۔ تاہم حکام نے وضاحت کی کہ طلبہ کو یرغمال نہیں بنایا گیا تھا بلکہ انہیں حفاظتی طور پر اپنے کمروں تک محدود رکھا گیا کیونکہ حملہ آور انتظامی بلاک میں چھپے ہوئے تھے جو طلبہ کے بلاک کے سامنے واقع ہے۔
طلبہ نے اس واقعے کے بعد پاک فوج کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ "پاک فوج نے ہمیں تعلیم، امن اور ترقی کے مواقع فراہم کیے ہیں۔” ایک طالب علم نے کہا کہ "یہ بزدل دہشت گرد ہمیشہ چاہتے ہیں کہ وزیرستان کے بچے تعلیم سے محروم رہیں تاکہ وہ اپنی گمراہ کن سوچ مسلط کر سکیں، لیکن وہ ہمیشہ ناکام رہیں گے۔”
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تحقیقات میں شواہد ملے ہیں کہ دہشت گرد افغانستان میں تربیت حاصل کر کے پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کابل نے ایسے عناصر کے خلاف کارروائی نہ کی تو اسلام آباد اپنے دفاع کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے گا۔
نقوی نے بتایا کہ ایک روز قبل اسلام آباد کے جی-11 ڈسٹرکٹ کورٹ کے باہر خودکش دھماکے میں 12 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق حملہ آور عدالت میں داخل نہ ہو سکا اور اس نے پولیس کی گاڑی کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ "ہماری پہلی ترجیح خودکش حملہ آور کی شناخت کرنا ہے۔”
حکام کا کہنا ہے کہ وانا میں جاری کلیئرنس آپریشن جلد مکمل کر لیا جائے گا اور تمام حملہ آوروں کے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جائے گا تاکہ ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
