پرنسس ڈیانا کے بھائی، ارل چارلس اسپنسر نے ایک بار پھر بی بی سی پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارے کی جانب سے 1995 کے شاہکار انٹرویو کے لیے اختیار کی گئی ’’دھوکے بازیاں‘‘ براہِ راست ان حالات کا سبب بنیں جنہوں نے ڈیانا کو ان کی موت سے قبل غیر محفوظ بنا دیا۔
پیپلز میگزین سے گفتگو میں اسپنسر نے کہا کہ بی بی سی کے سینیئر افراد نے ’’شرمناک دھوکا دہی‘‘ کے ذریعے مارٹن بشیر کا انٹرویو ممکن بنایا، جو بعد میں ڈیانا کی زندگی میں خوف اور عدم اعتماد کا باعث بنا۔ ان کے مطابق، یہی عوامل 1997 کی اُس رات تک اثر انداز رہے جب ڈیانا پیرس میں حادثے کا شکار ہوئیں۔
ان کے بیانات اس تحقیق کے چار سال بعد سامنے آئے ہیں جس میں ثابت ہوا تھا کہ بشیر نے جعلی بینک اسٹیٹمنٹس اور جھوٹے دعوے تیار کرکے ڈیانا کا اعتماد جیتا۔ ان جھوٹوں میں یہ تاثر بھی شامل تھا کہ ڈیانا کے قریبی افراد، بشمول ان کے پرائیویٹ سیکریٹری پیٹرک جیفسن، مبینہ طور پر ان کی نگرانی کر رہے تھے۔
جیفسن نے پیپلز سے گفتگو میں کہا کہ ڈیانا کا خوف بجا تھا کیونکہ ان کے سامنے پیش کی گئی معلومات نے انہیں “حقیقی بے چینی‘‘ میں مبتلا کر دیا تھا۔ ان کے مطابق، بی بی سی کی فریب کاری نے ڈیانا کو سرکاری سکیورٹی چھوڑنے پر مجبور کردیا، جس کے بعد وہ ایسے نجی محافظوں کے رحم و کرم پر رہ گئیں جو ’’پیشہ ورانہ طور پر قابل‘‘ نہیں تھے۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ بشیر نے کنگ چارلس سوم کے بارے میں جھوٹا تاثر دیا کہ وہ ایک شاہی نینی کے ساتھ تعلقات رکھتے تھے، اور اس الزام کو تقویت دینے کے لیے جعلی دستاویزات تک تیار کی گئیں۔ بعد ازاں تحقیقات نے ان دعووں کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا۔
تحقیقاتی رپورٹ کے بعد بی بی سی نے اس معاملے کی سنگینی کا اعتراف کرتے ہوئے باضابطہ معافی مانگی اور کہا کہ ادارہ ’’رپورٹ کے تمام نتائج کو تسلیم کرتا ہے‘‘۔ بشیر، جنہوں نے 2021 میں اسکینڈل دوبارہ سامنے آنے پر استعفیٰ دیا تھا، نے جعلی دستاویزات تیار کرنے کو ’’بہت بڑی غلطی‘‘ قرار دیا اور افسوس کا اظہار کیا۔
چارلس اسپنسر کے تازہ تبصرے اس متنازع انٹرویو کے دیرپا جذباتی اور تاریخی اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہیں ایک ایسا انٹرویو جو ان کے مطابق ڈیانا کے خوف، فیصلوں اور زندگی پر اُس وقت تک سایہ فگن رہا جب تک وہ پیرس میں جان لیوا حادثے کا شکار نہ ہوگئیں۔
