وفاقی حکومت نے 28ویں آئینی ترمیم کی تیاری سے متعلق تمام رپورٹس مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے کوئی تجویز زیرِ غور نہیں۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ نئی ترمیم اسی صورت لائی جائے گی اگر تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان مکمل اتفاقِ رائے پیدا ہو اور فی الحال ایسا کوئی اتفاق موجود نہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو میں وزیر نے بتایا کہ حکومت نے ابتدا میں 27ویں آئینی ترمیم میں کچھ اضافی نکات شامل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، مگر اتحادی جماعتوں کے اختلافات کے باعث وہ شقیں شامل نہیں کی جا سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں انہی مؤخر شدہ نکات کو سامنے لانے کا فیصلہ صرف اسی وقت ممکن ہوگا جب سیاسی ہم آہنگی پیدا ہو۔ انہوں نے واضح کیا:
“اگر 27ویں ترمیم سے رہ جانے والی شقوں پر اتفاقِ رائے ہو گیا تو 28ویں ترمیم آئے گی، ورنہ نہیں لائی جائے گی۔”
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے 18ویں ترمیم میں تبدیلی کی خبروں کو بھی بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اسے “من گھڑت پروپیگنڈا” کہا۔ انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ حکومت کوئی بھی آئینی قدم اٹھانے سے پہلے اتحادی جماعتوں کو مکمل اعتماد میں لے گی۔
سیاسی ماحول سے متعلق گفتگو میں وزیر نے کہا کہ حکومت نے ہمیشہ کوشش کی کہ سیاسی کشیدگی کم سے کم رہے اور اپوزیشن سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے رابطہ رکھا جائے۔ انہوں نے PTI کی سابق حکومت پر الزام لگایا کہ اس کے دور میں تصادم کی سیاست کو فروغ دیا گیا۔ ان کے مطابق سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی میں بدلنا جمہوری روایت کے خلاف ہے۔
