اسلام آباد: وزیرِاعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کو ہدایت کی ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم پیش کرنے سے قبل سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کریں۔ یہ ہدایت ذرائع کے مطابق بدھ کے روز دی گئی۔
اندرونی ذرائع کے مطابق مجوزہ ترمیم کا مقصد آئینی عدالت کے قیام، قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں تبدیلی، اور آرٹیکل 243 میں ترمیم کرنا ہے، جو پاکستان کی مسلح افواج کی سپریم کمان سے متعلق ہے۔ ترمیم میں ایگزیکٹو مجسٹریٹس کے قیام، ججوں کے تبادلے کے اختیار، اور صوبائی حصے کے تحفظ کے طریقہ کار پر بھی نظرِ ثانی شامل ہے۔
ڈپٹی وزیرِاعظم اسحاق ڈار نے تصدیق کی کہ مسودے کی حتمی منظوری سے قبل پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم پاکستان، اے این پی، اور بی اے پی سمیت اتحادی جماعتوں سے مشاورت جاری ہے۔ رابطہ مضبوط بنانے کے لیے اسپیکر ایاز صادق نے تمام پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس اسپیکر لاونج پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کیا ہے تاکہ مجوزہ ترامیم پر مشترکہ حکمتِ عملی طے کی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعتوں، بشمول تحریکِ انصاف اور جمعیت علمائے اسلام (ف)، کو بھی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ اگر اتفاقِ رائے نہ ہو سکا تو حکومت قومی اسمبلی میں اپنی عددی برتری پر انحصار کرے گی، جہاں اتحادیوں کے پاس 237 ارکان کی حمایت موجود ہے جو آئینی ترمیم کے لیے درکار 224 ووٹوں سے زیادہ ہے۔
ایوان زیریں میں مسلم لیگ (ن) 125 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت ہے، اس کے بعد پیپلز پارٹی 74 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ اتحادی جماعتوں میں ایم کیو ایم (22)، مسلم لیگ (ق) (5)، آئی پی پی (4)، اور چند آزاد ارکان شامل ہیں۔ سینیٹ میں اتحاد کے پاس 61 اراکین ہیں اور ترمیم کی منظوری کے لیے کم از کم تین مزید ووٹ درکار ہوں گے۔
اسی دوران اسپیکر ایاز صادق مختلف جماعتی رہنماؤں سے علیحدہ ملاقاتیں کریں گے، جبکہ حکومتی اتحاد نے تمام ارکانِ پارلیمنٹ کو اہم مشترکہ اجلاس کے لیے اسلام آباد میں موجود رہنے کی ہدایت دی ہے۔
ایم کیو ایم کا خیر مقدم: گڈ گورننس کی جانب قدم
ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ مجوزہ ترمیم گورننس کو مؤثر بنانے اور صوبائی ہم آہنگی کو فروغ دینے کی کوشش ہے۔ صحافیوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ترامیم عدالتی اصلاحات اور عوامی حقوق کے تحفظ کا باعث بنیں گی۔
پارٹی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانا اگلا مرحلہ ہونا چاہیے تاکہ “عوامی خودمختاری” کو فروغ دیا جا سکے اور عوامی مسائل مقامی سطح پر حل ہوں۔
فضل الرحمن سے حمایت کے لیے ملاقات دوسری جانب سینیٹر فیصل واوڈا نے اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی، جس میں آئینی ترمیم اور ملکی استحکام پر بات چیت ہوئی۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ ملاقات کا مقصد سیاسی اعداد و شمار نہیں بلکہ قومی استحکام ہے، اور امید ظاہر کی کہ آئینی ترامیم کی منظوری کے لیے انہیں “درکار حمایت” حاصل ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ 18ویں ترمیم کو ختم نہیں بلکہ اتفاقِ رائے سے جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ آرٹیکل 243 میں سائبر اور اقتصادی دفاع کو بھی روایتی فوجی ذمہ داریوں کے ساتھ شامل کیا جائے گا۔
واوڈا نے تمام سیاسی جماعتوں، بشمول تحریکِ انصاف، پر زور دیا کہ وہ مثبت کردار ادا کریں، کیونکہ تقسیم کی سیاست ملک کے مفاد میں نہیں۔
