اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے جمعہ کے روز واضح کیا کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو اپنے صوبے کے معاملات پر توجہ دینی چاہیے اور وفاقی حکومت دھرنوں کی دھمکیوں یا کسی قسم کے دباؤ میں نہیں آئے گی۔
دنیا نیوز کے پروگرام ٹو نائٹ ود سمر عباس میں گفتگو کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے ملاقاتیں صرف جیل مینوئل کے مطابق ہوں گی، اور اگر قوانین کی خلاف ورزی ہوئی تو کسی قسم کی ملاقات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل میں “زیادہ سے زیادہ سہولیات” فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی “بزدار پلس پلس” کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کسی کو بھی اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی کرنے یا صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کارکنان جیل کے باہر بد نظمی پیدا کرتے ہیں، جو قانون شکنی کے مترادف ہے، اسی وجہ سے ملاقاتوں کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
عطا اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں، اور ایک خاتون رہنما نے بھارتی اور افغان میڈیا کو معلومات فراہم کیں۔
انہوں نے زور دیا کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کو عمران خان سے ملنے کا کوئی قانونی حق نہیں، اور سہیل آفریدی کو چاہیے کہ وہ اپنے صوبے میں امن و امان کی بہتری اور انتظامی امور پر توجہ دیں، نہ کہ سیاسی محاذ آرائی میں الجھیں۔
